{10}…منقول ہے کہ علم کا پہلا درَجہ خاموشی ہے، پھر غور سے سننا، پھر یاد کرنا، پھر عمل کرنا اور پھر اسے پھیلانا۔ (۱)
{11}…منقول ہے کہ اپنا علم اُسے سکھاؤ جسے علم نہیں اور خود اُس سے سیکھو جو اُن باتوں کو جانتا ہو جنہیں تم نہیں جانتے۔ اس طرح تم جو نہیں جانتے اسے جان لوگے اور جو جانتے ہو اسے یاد کرلوگے۔ (۲)
{12}…حضرتِ سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ علم سیکھو! کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے علم سیکھنا خشیت، اس کی جستجو عبادت، اس کی تکرار تسبیح، اس کے متعلق بحث کرنا جہاد، جو نہیں جانتا اسے علم سکھانا صدَقہ اور اسے اس کے اہل پر خرچ کرنا نیکی ہے۔ علم تنہائی میں مونس، خلوت میں رفیق، دین پر راہنما، خوشی وتنگی میں صبر دینے والا، دوستوں کے ہاں نائب، اجنبیوں کے پاس رشتہ دار اور راہِ جنت کا روشن مینار ہے۔ علم کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قوموں کو بلندی عطا فرماکر انہیں نیکی میں مقتدا و پیشوا اور راہنما بنا دیتا ہے۔ ان کی پیروی کی جاتی ہے۔ انہیں نیکی کی راہ دکھانے والا بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے۔ ان کے افعال کو بغور دیکھا جاتا ہے۔ فرشتے ان کی دوستی میں رغبت رکھتے اور اپنے پروں سے انہیں چھوتے ہیں ۔ ہر خشک وتر حتی کہ سمندر کی مچھلیاں ، کیڑے مکوڑے، خشکی کے درندے ، جانور، آسمان اور اس کے ستارے علم سیکھنے والے کے لئے مغفرت کا سوال کرتے ہیں ۔ کیونکہ علم دلوں کو اندھے پن سے جلا بخشتا ہے۔ آنکھوں سے اندھیرے دور کرکے انہیں روشنی دیتا ہے۔ بدنوں کی کمزوری دور کرکے انہیں طاقتور بناتا ہے۔ اس کے ذریعے بندہ نیک لوگوں کی منازِل اور بلند درَجات تک پہنچ جاتا ہے۔اس میں غور وفکر کرنا روزوں کے برابر اور اس کی تکرار رات کی عبادت کے برابر ہے۔ اسی کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وعبادت کی جاتی ہے۔ اسی سے خوف خدا ملتا ہے۔اسی سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بزرگی اور وحدانیت کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ اسی سے پرہیزگاری ملتی ہے۔ اسی سے صلہ رحمی کا جذبہ ملتاہے۔ یہی حلال وحرام کی پہچان کا ذریعہ ہے۔ علم امام ہے اور عمل اس کے تابع۔ علم خوش نصیبوں کو عطا ہوتا ہے جبکہ بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں ۔ (۳)
ہم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے حسنِ توفیق کا سوال کرتے ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…حلیۃ الاولیاء، سفیان الثوری، الرقم:۹۱۰۰، ج۶، ص۴۰۱۔
2…عیون الاخبارللدینوری، کتاب العلم والبیان، العلم، ج۲، ص۱۳۹۔
3…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث:۲۴۰، ص۷۷۔قوت القلوب،الفصل الحادی والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ،ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ،ج۱،ص۲۳۳۔