Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
64 - 1087
 واسطہ کیسا ہونا چاہئے۔ (۱)
{4}…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی عسقلان تشریف لائے اور کچھ عرصہ ٹھہرے رہے لیکن کسی نے بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے کوئی مسئلہ دریافت نہیں کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: مجھے کرایہ دو تاکہ میں   اس شہر سے چلا جاؤں کیونکہ یہاں علم مرچکا ہے۔ (۲)یہ اس لئے فرمایا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ علم سکھانے کی فضیلت حاصل کرنے اور اس کے ذریعے بقائے علم کی حرص رکھتے تھے۔ 
{5}…حضرت سیِّدُنا عطا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: میں   حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس گیا تو وہ رو رہے تھے میں   نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا: کوئی مجھ سے مسئلہ دریافت نہیں کرتا۔ (۳)
{6}…منقول ہے کہ علما زمانوں کے چراغ ہیں اور ہر عالم اپنے زمانے کا چراغ ہے جس سے اس کے اہلِ زمانہ (علم کی) روشنی حاصل کرتے ہیں۔(۴)
{7}…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: اگر علما نہ ہوتے تو لوگ چوپایوں کی مثل ہوتے۔ (۵) مطلب یہ کہ علما لوگوں کو علم سکھاکر حیوانیت سے نکال کر انسانیت میں   داخل کرتے ہیں ۔
{8}…حضرت سیِّدُنا عکرمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: بے شک اس علم کی قیمت ہے۔ پوچھا گیا: اس کی قیمت کیاہے؟ فرمایا: یہ کہ تم اِسے اُس شخص تک پہنچاؤ جو اِسے اچھی طرح یاد رکھے اور ضائع نہ کرے۔ (۶)
{9}…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: علما اس اُمت پر ماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں ۔ پوچھا گیا: وہ کیسے؟ فرمایا: اس لئے کہ ماں باپ دنیا کی آگ سے محفوظ رکھتے ہیں جبکہ علما انہیں آخرت کی آگ سے بچاتے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الفقیہ والمتفقہ، باب الزجر عن التسرع الی الفتوی مخافۃ الزلل، الحدیث:۱۰۸۸، ج۲، ص۳۵۴۔ حلیۃ الاولیاء، محمد بن المنکدر، الحدیث:۳۶۱۸، ج۳، ص۱۷۹۔ 
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ماروی فی قبض العلم وذھاب العلماء، الحدیث:۶۷۰، ص۲۱۸۔ 
3…المستطرف فی کل فن مستطرف، الباب الرابع فی العلم والأدب…الخ، ج۱، ص۴۱۔ 
4…التذکرۃ فی الوعظ، فضل العلم والعلماء ،ص۵۶۔ 
5…جامع بیان العلم وفضلہ، باب آفۃ العلم وغاءلتہ…الخ، الحدیث:۴۸۸، ص۱۵۲۔ 
6…الکامل فی صفعاء الرجال لابن عدی، عکرمۃ مولی ابن عباس:۱۴۱۱، ج۶، ص۴۷۶۔