Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
61 - 1087
 میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کی طرح ہو، تم شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول ہو گی۔ چنانچِہ، وہ شفاعت کریں گے پھر وہ جنت میں   داخل ہو ں گے۔ (۱)
	یہ اس علم کی بدولت ہو گا جو دوسروں کو سکھایا ہوگا، اس کے بدلے نہیں جو دوسروں تک نہیں پہنچایا۔
{5}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  لوگوں کو علم عطا کرنے کے بعدواپس نہیں لے گا بلکہ علما کے اُٹھ جانے سے علم جاتا رہے گا۔ پس جب کبھی کوئی عالم دنیا سے جائے گا اس کے ساتھ اس کاعلم بھی چلا جائے گا یہاں تک کہ صرف جاہل سردار رہ جائیں گے۔ اگر ان سے مسائل پوچھے جائیں تو بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (۲)
{6}…جس نے علم سیکھ کر چھپایا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اسے بروزِ قیامت آگ کی لگام ڈالے گا۔ (۳)
{7}…علم وحکمت کی بات بہترین ہدیہ وتحفہ ہے جسے سن کر تو یاد کر لے پھر اپنے مسلمان بھائی  کو سکھائے تویہ ایک سال کی عبادت کے برابر ہے۔ (۴)
{8}…دنیا اور جو کچھ اس میں   ہے سب ملعون ہے سوائے ذکرالٰہی کے اوراس کے جو قُرب الٰہی کا سبب بنے اور علم سیکھنے والے اور سکھانے والے کے۔ (۵)
{9}…بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ، اس کے فرشتے اور آسمان وزَمین کی مخلوق حتی کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں   اور مچھلیاں سمندر میں   لوگوں کو بھلائی(یعنی علمِ دین) سکھانے والے پر دُرود بھیجتے ہیں ۔ (۶)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…اتحاف السادۃ المتقین،کتاب العلم، الباب الاول، ج۱، ص۱۶۲۔ 
2…صحیح مسلم، کتاب العلم، باب رفع العلم…الخ، الحدیث:۲۶۷۳، ص۱۴۳۶۔ المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمرو، الحدیث:۶۹۱۳، ج۲،ص۶۴۸۔ 
3…سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب من سئل عن علم فکتمہ، الحدیث:۲۶۵/۲۶۶، ج۱، ص۱۷۲۔ 
4…الزھد لابن المبارک، باب فضل ذکراللّٰہ، الجزء العاشر، الحدیث:۱۳۸۶، ص۴۸۷۔ جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادۃ، الحدیث:۸۷، ص۳۶۔ 
5…سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب مثل الدنیا، الحدیث:۴۱۱۲، ج۴، ص۴۲۸۔ شرح السنۃ، کتاب الرقاق، باب ھوان الدنیا علی اللّٰہ، الحدیث:۳۹۲۳، ج۷، ص۲۸۰۔ 
6…سنن الترمذی،کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، الحدیث:۲۶۹۴، ج۴، ص۳۱۴۔ المعجم الکبیر، الحدیث:۷۹۱۲، ج۸، ص۲۳۴۔