{۵}
اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (پ۱۴، النحل:۱۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنے ربّ کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔
{۶}
وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (پ۱،البقرۃ:۱۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے۔
علم سکھانے کی فضیلت پر مشتمل17فرامین مصطفٰی:
{1}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جسے بھی علم عطا فرمایا اس سے وہ عہد لیا جو انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لیا کہ وہ اسے لوگوں سے بیان کرے اور نہ چھپائے۔ (۱)
{2}…مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کویمن بھیجا تو ارشاد فرمایا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تیرے ذریعے کسی ایک کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لئے دُنیا وَمافِیْہا(یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے) سے بہتر ہے۔ (۲)
{3}…جس نے علم کاایک باب اس لئے سیکھا کہ لوگوں کو سکھائے گا تو اسے 70صدیقین کا ثواب دیا جائے گا۔ (۳)
حضرتِ عیسیٰ روح اللّٰہ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے منقول ہے کہ جس نے علم حاصل کیا، اس پر عمل کیا اور دوسروں کو سکھایا تو آسمانوں کی سلطنت میں اسے عظیم کہا جاتا ہے۔ (۴)
{4}…جب قیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عابدوں اور مجاہدوں سے فرمائے گاکہ جنت میں داخل ہو جاؤ تو علما عرض کریں گے: ہمارے علم کے طفیل وہ عابد اور مجاہد بنے(وہ جنت میں گئے اور ہم رہ گئے)؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: تم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۹۔ الفردوس الاخبار، باب المیم، الحدیث:۶۶۱۹، ج۲، ص۳۳۲۔
2…الزھد لابن المبارک، باب فضل ذکراللّٰہ، الجزء العاشر، استعنت باللّٰہ، الحدیث:۱۳۷۵، ص۴۸۴۔
3…الترغیب والترھیب، کتاب العلم، الترغیب فی العلم…الخ، الحدیث:۱۱۹، ج۱، ص۶۸۔
4…الزھد للامام احمد بن حنبل، مواعظ عیسی علیہ السلام، الحدیث:۳۳۰، ص۹۷۔