{۴} تیسری فصل: علم سکھانے کی فضیلت
علم سکھانے کی فضیلت پر مشتمل 6 فرامینِ باری تعالیٰ:
{۱}
وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾٪ (پ۱۱،التوبۃ:۱۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرسنائیں اس امید پرکہ وہ بچیں ۔
اس آیت ِ مبارکہ میں قوم کو ڈرانے سے مراد انہیں علم سکھانا اور ان کی راہنمائی کرنا ہے۔
{۲}
وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوۡنَہٗ ۫(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یادکرو جب اللّٰہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا۔
اس آیت ِ مبارکہ سے علم سکھانے کاوجوب ثابت ہوتا ہے۔
{۳}
وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنْہُمْ لَیَکْتُمُوۡنَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۴۶﴾ؔ (پ۲، البقرۃ:۱۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ان میں ایک گرہوہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں ۔
اس آیت ِمبارکہ سے پتا چلا کہ علم چھپانا حرام ہے۔جیساکہ شہادت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنۡ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ؕ (پ۳، البقرۃ:۲۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے۔
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا (پ۲۴،حم السجدۃ:۳۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جواللّٰہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے۔