{9}…حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے فرمایا: علم کی طلب نفل نماز سے افضل ہے۔(۱)
{10}…حضرتِ سیِّدُنا ابن عبدالحکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کے پاس علم حاصل کررہا تھا، ظہر کا وقت ہوا تو میں کتابیں سمیٹنے لگا تاکہ نماز پڑھوں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: اگر نیت صحیح ہو تو جس کی طرف تم جا رہے ہو(یعنی نماز) وہ اس سے افضل نہیں جس(علم) میں تم مصروف تھے۔(۲)
{11}…حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : جو یہ سمجھے کہ صبح کے وقت علم کی طلب میں جانا جہاد نہیں اس کی رائے اور عقل ناقص ہے۔(۳)
{…فضائل قرآنِ کریم…}
فرمانِ مصطفیٰ:
’’یہ قرآن مجیداللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ضیافت ہے توتم اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی ضیافت قبول کرو ۔ بے شک یہ قرآن مجید، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مضبوط رسی، نورِمُبِیْن، نفع بخش شفاء ، جواسے اختیار کرتا ہے اس کے لئے ڈھال اور جو اس پر عمل کرے اُس کے لئے نجات ہے۔ یہ حق سے نہیں پھرتاکہ اس کے ازالے کے لئے تھکنا پڑے اوریہ ٹیڑھی راہ نہیں کہ اسے سیدھا کرنا پڑے۔ اس کے فوائد ختم نہیں ہوتے اور کثرتِ تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا (یعنی اپنی حالت پرقائم رہتا ہے) ۔ تو تم اس کی تلاوت کیا کرو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہر حرف کی تلاوت پر 10 نیکیاں عطا فرمائے گا۔میں نہیں کہتا کہ ’’المّ ‘‘ ایک حرف ہے بلکہ ’’الف‘‘ ایک حرف ’’لام‘‘ ایک حرف اور’’میم ‘‘ ایک حرف ہے ۔‘‘ (المستدرک،الحدیث:۲۰۸۴،ج۲،ص۲۵۶)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسند الشافعی، کتاب الصداق والایلاء، ص۲۴۹۔
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادۃ، الحدیث:۱۰۵، ص۴۰۔
3…جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلماء علی الشھداء، الحدیث:۱۴۳،ص۴۹۔