Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
57 - 1087
{2}…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: مجھے اس شخص پر حیرت ہوتی ہے جو علم حاصل نہیں کرتا وہ عزت کی خواہش کیسے کرتا ہے۔(۱)
{3}…کسی دانا کا قول ہے کہ مجھے دو شخصوں پر جتنا رحم آتا ہے اتنا کسی پر نہیں آتا ایک وہ جو علم حاصل کرتا ہے مگر سمجھتا نہیں اور دوسرا وہ جو سمجھ سکتا ہے لیکن علم حاصل نہیں کرتا۔(۲)
{4}…حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ایک مسئلہ سیکھنا مجھے رات بھر کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔(۳)
{5}…انہی سے منقول ہے کہ عالم اور علم سیکھنے والا دونوں بھلائی میں   برابر کے شریک ہیں اور ان کے علاوہ تمام لوگ بے وقوف ہیں ان میں   کوئی خیر نہیں ۔(۴)
{6}…نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ عالم بن یا علم حاصل کرنے والا یا علم کی باتیں سننے والا اور ان کے علاوہ چوتھا نہ بننا ورنہ ہلاک ہوجائے گا۔(۵)
{7}…حضرتِ سیِّدُنا عطا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: علم کی ایک مجلس غفلت کی 70مجلسوں کا کفارہ ہے۔(۶)
{8}…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: راتوں کو عبادت کرنے والے اور دن میں   روزہ رکھنے والے ایک ہزار عبادت گزاروں کی موت ایک عالم کی موت سے آسان ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے حلال اور حرام کردہ امور کا علم رکھتا ہے۔(۷)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…المجالسۃ وجواھر العلم، الحدیث:۳۰۷، الجزاء الثانی، ج۱، ص۱۶۳۔ 
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی الحال التی یسال بھا العلم، الحدیث:۴۶۱، ص۱۴۴۔ 
3…الفقیہ والمتفقہ، فضل التفقہ علی کثیر من العبادات، الحدیث:۵۵، ج۱، ص۱۰۳۔ 
4…الزھد لابن المبارک، باب ھوان الدنیا علی اللّٰہ، الجزء الرابع، الحدیث:۵۴۳، ص۱۹۲۔ 
5…سنن الدارمی، باب فی ذھاب العلم، الحدیث:۲۴۸، ج۱، ص۹۱۔ صفۃالصفوۃ، ابوالد رداء، ج۱، ص۳۱۹، ’’کن‘‘ بدلہ ’’اعذ‘‘، عن عبداللّٰہ بن مسعود۔ 
6…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین العلماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۷،بتغیرٍ۔
7…جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادۃ، الرقم:۱۱۵، ص۴۲،بتغیرٍ۔