{16}…حضرتِ سیِّدُنا سالم بن ابو جعد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے آقا نے 300درہم میں خرید کر آزاد کر دیا تو میں نے سوچا کہ اب کون سا پیشہ اختیار کروں ؟ بالآخر حصولِ علم میں مشغول ہو گیا۔ ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا کہ شہر کا حاکم مجھ سے ملنے کے لئے آیا لیکن میں نے اسے اجازت نہ دی۔(۱)
{17}…حضرتِ سیِّدُنا زبیر بن ابوبکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں عراق میں تھامیرے والد نے مجھے پیغام بھیجا کہ علم کو لازم کرلو! اگر غریب ہو تویہ تمہارامال ہے اور اگر غنی ہو توتمہارا جمال ہے۔(۲)
{18}…منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو جو وصیتیں فرمائیں ان میں ایک وصیت یہ بھی تھی کہ بیٹا علما کی صحبت میں بیٹھا کرو،اپنے زانو ان کے زانوسے ملادو کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نورِحکمت سے دلوں کو ایسے زندہ کرتا ہے جیسے زمین کو مسلسل بارِش سے۔(۳)
{19}…کسی دانا کا قول ہے کہ عالم کی وفات پر پانی میں مچھلیاں اور ہوا میں پرندے روتے ہیں ۔ عالم کا چہرہ اوجھل ہوجاتاہے لیکن اس کی یادیں باقی رہتی ہیں ۔(۴)
{20}…حضرتِ سیِّدُنا امام زہری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: علم نَر ہے اور آدمیوں میں مرد ہی اس سے محبت کرتے ہیں ۔(۵)
{…صَلُّواعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فیض القدیر، حرف الحاء، فصل فی المحلی بأل…الخ، تحت الحدیث:۳۸۲۷، ج۳، ص۵۵۲۔
2…حدیث ابی نعیم الاصبھانی، الحدیث:۶، ص۷۔
3…الموطالامام مالک، کتاب العلم، باب ماجاء فی طلب العلم، الحدیث:۱۹۴۰، ج۲، ص۴۷۸۔
4…فردوس الاخبار، باب العین، الحدیث:۴۰۴۴، ج۲، ص۸۴، باختصارٍ۔
5…حلیۃ الاولیاء، الزھری، الرقم:۴۴۸۷، ج۳، ص۴۱۸۔