Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
53 - 1087
	کی تفسیر میں   فرماتے ہیں : دنیامیں حَسَنَۃً سے مراد علم اور عبادت ہے جبکہ آخرت میں   اس سے مراد جنت ہے۔(۱)
{11}…کسی دانا سے پوچھا گیاکہ کون سی چیزیں ذخیرہ کرنی چاہئیں ؟ جواب دیا: وہ چیزیں کہ جب تمہاری کشتی ڈوب جائے تووہ تمہارے ساتھ تیرنے لگیں یعنی علم۔(۲)
	بعض نے کہا: کشتی کے غرق ہونے سے مراد موت کے ذریعے بدن کا ہلاک ہونا ہے۔
{12}…کہاگیاہے کہ جو حکمت کو لگام بنا لیتا ہے لوگ اسے امام بنا لیتے ہیں اور جو حکمت کو سمجھ لیتا ہے لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔(۳)
{13}…حضرت سیِّدُنا امام شافِعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے فرمایا: علم کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس کی طرف یہ منسوب ہو خواہ چھوٹی سی بات میں  ،تو وہ خوش ہوتا ہے اور جس سے اسے اُٹھا لیا جاتا ہے وہ رنجیدہ ہوتا ہے۔(۴)
{14}…امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اے لوگو! تم پر علم حاصل کرنا لازِم ہے۔ بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی ایک چادرِ محبت ہے اور جو علم کا ایک باب حاصل کر لیتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے وہ چادر پہنا دیتا ہے۔ پھر اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے تو اسے اپنی رِضا والے کاموں میں   لگادیتا ہے تاکہ چادرِ محبت اس سے سلب نہ کرے اگرچہ یہ سلسلہ اتنا طویل ہو کہ اسے موت آجائے۔(۵)
{15}…حضرتِ سیِّدُنا احنف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کاقول ہے کہ جلد ہی علما مالک بن جائیں گے اور ہر اس عزت کا انجام کار ذلت ہوتا ہے جسے علم سے مضبوط نہ کیا جائے۔(۶)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب ماجاء فی عقدالتسبیح بالید،الحدیث:۳۴۹۹،ج۵،ص۲۹۵۔ 
2…الحث علی طلب العلم لابی ھلال العسکری، ص۶۷۔جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث:۲۴۶، ص۸۰۔ 
3…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث:۲۴۶، ص۸۰۔ 
4…المرجع السابق، الحدیث:۲۴۷، ص۸۳، بتغیرٍ۔ 
5…المرجع السابق، الحدیث:۲۵۱۔ 
6…عیون الاخبارللدینوری، کتاب العلم والبیان، ج۲، ص۱۳۷۔