کے وقت زخم کی تکلیف کا احساس نہیں رہتا اگرچہ تکلیف موجود ہوتی ہے۔ پھر جب موت اس سے دنیا کے بوجھ اُتارتی ہے تب وہ اپنی ہلاکت محسوس کرکے بہت پچھتاتا ہے لیکن پھر یہ اس کے حق میں بے سود ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے مدہوش کو نشے اور خوف کی حالت میں لگے زخموں کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب اسے خوف اور نشے سے نجات ملتی ہے۔ ہم پردے کھلنے کے دن سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ بے شک لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مریں گے تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
{7}…حضرتِ سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : علما کی سیاہی کا شہداکے خون سے وزن کیا جائے گا تو علما کی سیاہی شہدا کے خون سے بھاری ہوگی۔(۱)
{8}…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: علم سیکھو اس سے پہلے کہ اٹھا لیا جائے۔(۲) اور علم کا اٹھایا جانا یہ ہے کہ علما وفات پا جائیں گے۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! راہِ خدا میں مارے جانے والے شہدا جب علما کا مقام دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش! انہیں بھی عالم اٹھایا جاتا۔ کوئی بھی عالم پیدا نہیں ہوتا علم سیکھنے سے ہی آتا ہے۔(۳)
{9}…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: رات میں کچھ دیر علم کی تکرار کرنا مجھے ساری رات شب بیداری سے زیادہ محبوب ہے۔(۴)اسی طرح حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل سے بھی منقول ہے۔
{10}…حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس ارشادِ باری تعالیٰ:
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴿۲۰۱﴾ (پ۲، البقرۃ:۲۰۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…العلل المنناھیۃ لابن الجوزی،کتاب العلم، باب وزن حبرالعلماء…الخ، الحدیث:۸۵، ج۱، ص۸۱۔
2…سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فضل العلماء والحث…الخ، الحدیث:۲۲۸، ج۱، ص۱۵۰، عن ابی امامۃ۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، فی فضل ابی ھریرۃ، الحدیث:۸۹۹، ص۱۸۴۔
4…جامع معمر بن راشد مع مصنف عبدالرزاق، باب العلم، الحدیث:۲۰۶۳۶، ج۱۰، ص۲۳۸۔