Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
51 - 1087
کرتے ہیں ۔(۱)
	حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے غیر عالم کو انسانوں میں   شمار نہ کیا کیونکہ علم ہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجْہ سے انسان تمام جانوروں سے ممتاز ہوتے ہیں ۔ پس انسان اس وصف کے ذریعے انسان ہے جس کے باعث اسے عزت حاصل ہوتی ہے۔ وہ جسمانی قوت کی وجْہ سے انسان نہیں ورنہ اُونٹ اس سے زیادہ طاقتور ہے۔ نہ جسامت کی وجْہ سے انسان ہے ورنہ ہاتھی کا جسم اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ نہ بہادری کے سبب ورنہ درندے اس سے بڑھ کر بہادر ہیں ۔ نہ اس لئے کہ وہ زیادہ کھاتا ہے کیونکہ بیل کا پیٹ اس سے زیادہ بڑا ہوتا ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ جماع کرتا ہے کیونکہ اس معاملے میں   چھوٹی سی چڑیا اس سے بڑھ کر طاقتور ہے بلکہ انسان علم ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
{5}…ایک عالم کاقول ہے کہ کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ جسے علم نہیں ملا اسے کیا ملا اور جسے علم ملااسے کیا نہیں ملا۔ مصطفٰی جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے قرآن دیا گیا اور اس نے یہ خیال کیا کہ کسی کو اس سے بہتر دیا گیا ہے تو اس نے اس چیز کو حقیر سمجھا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے عظیم کیا۔(۲)
{6}…حضرت سیِّدُنا فتح موصلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: اگر مریض کو کھانے، پینے اور دَواسے روک دیا جائے توکیا وہ مر نہیں جائے گا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ۔ فرمایا:دل کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اگر تین دن تک اس سے علم وحکمت کو دور رکھا جائے تو وہ مردہ ہو جاتا ہے۔(۳)
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بالکل سچ فرمایا کیونکہ جس طرح کھانا بدن کی غذا ہے اسی طرح علم وحکمت دل کی غذا ہے جن کی بدولت وہ زندہ رہتا ہے اور جس کے پاس علم نہیں اس کا دل بیمار اور اس کی موت لازِمی ہے لیکن اسے اس بات کی خبر نہیں ہوتی کیونکہ دنیا کی محبت اور اس میں   مشغولیت اِس کے احساس کو ختم کر دیتی ہے جیساکہ خوف کے غلبہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…المجالسۃ وجواھرالعلم للدینوری، الجزء الثانی، الرقم:۳۰۰، ج۱، ص۱۶۰۔ شعب الایمان للبیہقی، باب فی نشرالعلم، الرقم۱۸۴۷، ج۲، ص۲۹۸۔ 
2…الزھد لابن المبارک، باب ماجاء فی ذنب التنعم فی الدنیا، الحدیث:۷۹۹، ص۲۷۵، بتغیرٍ۔ 
3…التذکرۃ فی الوعظ لابن الجوزی، المجلس الثالث: فضل العلم والعلماء، ص۵۶۔