ہے۔ علم حاکم ہے اور مال محکوم۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتاہے جبکہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔(۱)
مزید فرمایا: رات بھر عبادت کرنے والے دن بھر روزہ رکھنے والے مجاہد سے عالم افضل ہے اور عالم کی موت سے اسلام میں ایسا رَخنہ (شگاف)پڑتا ہے جسے اس کے نائب کے سوا کوئی نہیں بھرسکتا۔(۲)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کچھ اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ ہے: فخر علما ہی کو لائق ہے کیونکہ وہ خود ہدایت پرہیں اور ہدایت کے طلبگاروں کے لئے راہنما ہیں ۔ ہر شخص اُسی چیز کی قدر کرتاہے جو اُسے اچھی لگتی ہے اور جاہل علماکے دشمن ہیں ۔ علم کے ذریعے کامیابی حاصل کرو ہمیشہ کی زندگی پاؤ گے۔ لوگ مر جاتے ہیں جبکہ علما زندہ رہتے ہیں ۔(۳)
{2}…حضرت سیِّدُناابواسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد نے فرمایا: علم سے بڑھ کر عزت والی شے کوئی نہیں ۔ بادشاہ لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جبکہ علما بادشاہوں پرحکومت کرتے ہیں ۔(۴)
{3}…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو علم، مال اور بادشاہت میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے علم کو اختیار کیا لہٰذا علم کے ساتھ انہیں مال اور حکومت بھی عطا کر دی گئی۔(۵)
{4}…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارَک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیاکہ انسان کون ہیں ؟ فرمایا: علما۔ پھر پوچھاگیا:بادشاہ کون ہیں ؟فرمایا: پرہیزگار۔ پھرپوچھا گیا: گھٹیا لوگ کون ہیں ؟ فرمایا: جو دین کے بدلے دنیا حاصل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الفقیہ والمتفقہ، ذکرتقسیم علی بن ابی طالب احوال الناس…الخ، الحدیث:۱۷۶، ج۱، ص۱۸۲۔ عیون الاخبارللدینوری، کتاب العلم والبیان، ج۲، ص۱۳۵،۱۳۶۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۷۔ الفقیہ والمتفقہ، باب تعظیم المتفقہ الفقیہ، الحدیث:۸۵۶، ج۲، ص۱۹۸، بالفاظٍ مختلفۃٍ۔
3…الفقیہ والمتفقہ، الحدیث:۷۶۹، ج۲، ص۱۵۰۔
4…الحث علی طلب العلم لابی ھلال العسکری، ص۵۳۔
جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث:۲۵۳، ص۸۴۔
5…تاریخ دمشق لابن عساکر، سلیمان بن داود، الحدیث:۴۹۴۰،ج۲۲، ص۲۷۵۔