Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
48 - 1087
{19}…تاجدارِرِسالت ، ماہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علم کو عبادت اور شہادت سے افضل قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت میرے ادنیٰ صحابی پر۔(۱)
	(پیارے اسلامی بھائی و!) غورکیجئے! مکی مدنی مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس طرح علم کو درَجۂ نبوت کے ساتھ ملا دیا اور کیسے علم سے خالی عمل کے مرتبے کو گھٹا دیا اگرچہ عابد جس عبادت پر مواظبت اختیار کئے ہوتا ہے وہ علم سے خالی نہیں ہوتی ورنہ وہ عبادت ہی نہیں جو علم سے خالی ہو۔
{20}…عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں کے چاند کی تمام ستاروں پر۔(۲)
{21}…قیامت کے دن تین قسم کے لوگ شفاعت کریں گے: انبیا، علما اور شہدا۔(۳)
	لہٰذا معلوم ہوا کہ زیادہ عظمت والا مرتبہ وہ ہے جس کا ذکر مرتبۂ نبوت کے ساتھ ملا ہوا ہے اور یہ مرتبۂ شہادت سے بڑھ کر ہے اگرچہ شہادت کی فضیلت میں   بھی کثیراَحادیث مروی ہیں ۔
{22}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی کوئی عبادت ایسی نہیں کی گئی جو دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے سے افضل ہو اور ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے اور اس دین کا ستون فقہ ہے۔(۴)
{23}…تمہارے دین کا افضل عمل وہ ہے جو آسان ترین ہو اور دین سیکھناسب سے افضل عبادت ہے۔(۵)
{24}…مومن عالم مومن عابد پر 70درَجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔(۶)
{25}…بے شک تم ایسے زمانے میں   ہوجس میں   علما زیادہ، قُرَّا اور خطبا تھوڑے ہیں ۔ دینے والے زیادہ اور مانگنے والے کم ہیں ۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گاجس میں   علما کم اور خطبا زیادہ ہوں گے۔ دینے والے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، الحدیث:۲۶۹۴، ج۴، ص۳۱۴،بتغیرٍ۔
2…سنن ابی داود، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم، الحدیث:۳۶۴۱، ج۳، ص۴۴۴۔ 
3…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالشفاعۃ، الحدیث:۴۳۱۳، ج۴، ص۵۲۶۔ 
4…المعجم الاوسط، الحدیث:۶۱۶۶، ج۴، ص۳۳۷۔ 
جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادۃ، الحدیث:۱۱۶، ص۴۲۔ 
5…جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادۃ، الحدیث:۸۰، ص۳۴۔ 
6…جامع بیان العلم وفضلہ،الحدیث:۸۴، ص۳۶۔