Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
462 - 1087
چوتھی فصل:			  نمازِ باجماعت کے فضائل
فضیلت جماعت پر مشتمل پانچ فرامینِ مصطفٰی:
{1}…باجماعت نماز تنہا نماز سے 27 درجے افضل ہے۔(۱)
{2}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بعض نمازوں میں کچھ لوگوں کو غیر حاضر پایا تو ارشاد فرمایا: ’’میں چاہتاہوں کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز (باجماعت)سے پیچھے رہ جاتے ہیں (۲) اور ان پر ان کے گھرجلا دوں ۔(۳)
{3}…ایک روایت میں ہے کہ پھر میں جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کی طرف جاؤں اور ان کے متعلق حکم دوں کہ ان پر ان کے گھروں کو لکڑیوں کے گٹھے سے جلا دیا جائے ۔ اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کھر پائے گا تو اس نماز (یعنی نمازِعشا) میں ضرور حاضر ہوتا۔(۴)
{4}…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جو نماز عشا جماعت سے پڑھے تو گویا وہ آدھی رات عبادت میں کھڑا رہا اور جو فجر جماعت سے پڑھے توگویا وہ ساری رات عبادت میں کھڑا رہا۔(۵)
{5}…جس نے باجماعت نماز پڑھی بے شک اس نے اپنے سینے کو عبادت سے بھر دیا۔
	حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’20 سال سے میرا یہ معمول ہے کہ مؤذن کے اذان دینے سے پہلے ہی مسجد میں ہوتاہوں ۔‘‘(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، الحدیث:۶۴۵، ج۱، ص۲۳۲۔
2… مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج2، ص168 پرہے:بلا عذر، لہٰذا اس سے چھوٹے بچے عورتیں معذور بیمار علیحدہ ہیں ۔ یہاں روئے سخن منافقین کی طرف ہے کیونکہ کوئی صحابی بلاوجہ جماعت اور مسجد کی حاضری نہیں چھوڑتے تھے ۔ لہٰذا روافض کا یہ کہنا کہ صحابہ فاسق یا تارک جماعت تھے، غلط ہے، رب نے ان کے تقویٰ اور جنتی ہونے کی گواہی دی۔ اگر یہاں صحابہ مراد ہوں تو حدیث قرآن کے خلاف ہوگی۔
3… صحیح مسلم، کتاب المساجد…الخ، باب کراھیۃ تأخیر الصلاۃ…الخ، الحدیث:۲۵۱۔۲۵۲، ص۳۲۷۔
4…المرجع السابق، الحدیث:۲۵۲۔المسندللام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:۷۳۳۲، ج۳، ص۳۹۔
5… صحیح مسلم، کتاب المساجد…الخ، باب فضل صلاۃ العشاء…الخ، الحدیث:۲۶۰، ص۳۲۹۔
6…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الصلاۃ، من کان یشھد الصلاۃ، الحدیث:۴، ج۱، ص۳۸۶، فیہ:’’ثلاثین سنۃ‘‘۔