ہوکربلندہوتی ہے اور کہتی ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے برباد کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا یہاں تک کہ جب وہاں جاتی ہے جہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا ہے تو اس کو بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔(۱)
{6}…لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے(۲)۔(۳)
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود اور حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ’’نماز پیمانہ ہے جس نے اسے پورا کیا اسے پورا بدلہ ملے گا اور جو اس میں کمی کرتا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کمی کرنے والوں کے متعلق کیا فرمایا ہے۔‘‘ (۴)
{…تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہ …}
{…صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰیعَلٰی مُحَمَّد…}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۳۰۹۵، ج۲، ص۲۲۷۔
2…صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی نماز میں چوری کیسے کرے گا۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’رکوع اور سجدہ پورا نہ کرے۔‘‘
مفسرشہیرحکیم الْاُمَّتحضرتِ مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج2، ص78 پر اس کے تحت فرماتے ہیں : واہ سُبْحَانَ اللّٰہکیا نفیس تمثیل ہے یعنی مال کے چور سے نماز کا چور بدتر ہے کیونکہ مال کا چور اگر سزا پاتا ہے تو کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چور سزا پوری پائے گا نفع کچھ حاصل نہیں کرتا نیز مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے نماز کا چور اللّٰہ کا حق، نیز مال کا چور یہاں سزا پا کر عذاب آخرت سے بچ جاتا ہے مگر نماز کے چور میں یہ بات نہیں نیز بعض صورتوں میں مال کے چور کو مالک معاف کرسکتا ہے لیکن نماز کے چور کی معافی کی کوئی صورت نہیں خیال کرو کہ جب نماز ناقص پڑھنے والوں کا یہ حال ہے تو جو سرے سے پڑھتے ہی نہیں ان کا کیا حال ہے۔ پھر جو کل یا بعض نمازوں کے منکر ہوچکے جیسے بھنگی پوستی فقیر اور چکڑالوی وغیرہ ان کا کیا پوچھنا۔
3…المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث ابی قتادۃ الانصاری، الحدیث:۲۲۷۰۵، ج۸، ص۳۸۶۔
4…کنزالعمال، کتاب الصلاۃ، الحدیث:۲۲۵۳۸، ج۸، ص۹۵۔