’’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ‘‘اور’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاح‘‘ کے علاوہ کلمات میں مؤذِّن کی مثل کہنا مستحب ہے جبکہ ان دونوں کے جواب میں ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ یعنی گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی توفیق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے ‘‘ (۱) کہنا اور ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃ‘‘کے جواب میں ’’وَاَقَامَہَااللّٰہُ وَاَدَامَہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْض‘‘ کہنا(۲) اور تثویب (یعنی اذان فجر میں مؤذن کے قول اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌمِّنَ النَّوْم کے جواب) میں ’’صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَنَصَحْتَ‘‘ کہنا مستحب ہے۔(۳)
اذان کے بعد کی دعا:
اذان سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھے: ’’اَللّٰہُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَانالْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ الَّذِیْ وَعَدْتَہٗ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَاد یعنی اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! اس دعوتِ تامہ اور صلوۃ قائمہ کے مالک تو محمدصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کووسیلہ اور فضیلت اور بہت بلند درجہ عطا فرمااور ان کو مقام محمود میں کھڑا کر جس کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے بے شک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ (۴)
فرشتے مقتدی:
حضرتِ سیِّدُناسعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’جو چٹیل میدان میں نماز ادا کرتا ہے اس کی دائیں جانب ایک فرشتہ اور بائیں جانب ایک فرشتہ نماز ادا کرتا ہے اگر وہ اذان واقامت کہہ کر نماز ادا کرے تو اس کے پیچھے پہاڑوں کی مثل(یعنی کثیر تعداد میں ) فرشتے نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ (۵)
{…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰیعَلٰی مُحَمَّد…}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…عمدۃ القاری، کتاب الاذان، باب مایقول اذا سمع المنادی، تحت الحدیث:۶۱۱، ج۴، ص۱۶۴، باختصارٍ۔
سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب مایقول اذا سمع المؤذن، الحدیث، ۵۲۷، ج۱، ص۲۲۲، باختصارٍ۔
2…سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب مایقول اذا سمع الاقامۃ، الحدیث:۵۲۸، ج۱، ص۲۲۲۔
3…تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر، کتاب الصلاۃ، الرقم:۳۱۰، ج۱، ص۵۱۹، دون ونصحت۔
4…سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی الدعاء عندالاذان، الحدیث:۵۲۹، ج۱، ص۲۲۲۔۲۲۳۔
تلخیص الجبیر فی تخریج احایث الرافعی الکبیر،کتاب الصلاۃ الرقم:۳۰۹، ج۱، ص۵۱۸۔
5…المصنف لعبد الرزاق، کتاب الصلاۃ، باب الرجل یصلی باقامۃ وحدہ، الحدیث:۱۹۵۸، ج۱، ص۳۷۹۔