باب نمبر1: نماز،سجود،جماعت اوراذان وغیرہ کے
فضائل(یہ سات فصلوں پر مشتمل ہے)
پہلی فصل: اذان کی فضیلت
اذان کی فضیلت پرمشتمل چار فرامین مصطفٰی:
{1}…تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جو بروز قیامت سیاہ کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے انہیں حساب کا خوف ہوگا نہ کوئی گھبراہٹ یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ہوجائے: (۱)…جس نے رضائے الٰہی کے لئے قرآنِ پاک کی تلاوت کی اور لوگوں کی امامت کی جبکہ وہ اس سے خوش ہوں (۲)…جس نے رضائے الٰہی کے لئے مسجد میں اذان دی اور لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلایا (۳)…جسے دنیا میں رزق کے معاملے میں آزمایا گیا مگر اس آزمائش نے اسے اُخروی اعمال سے غافل نہ کیا۔ (۱)
{2}…جِنّ واِنس اور جو بھی چیز مؤذن کی ندا سنتی ہے وہ بروزِ قیامت اس کی گواہی دے گی۔(۲)
{3}…مؤذن کے اذان سے فارغ ہونے تک رحمن عَزَّوَجَلَّ کا دست ِ قدرت اس کے سر پر ہوتا ہے۔(۳)
نیز اس فرمانِ باری تعالٰی:
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحَا (پ۲۴،حم السجدۃ:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللّٰہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے۔
کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ’’یہ آیت مؤذنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘
{4}…جب تم اذان سنو تو مؤذن کی مثل کہو۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی ادمان تلاوتہ، الحدیث:۲۰۰۲، ج۲، ص۳۴۸،بتغیرٍ۔
2…صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب رفع الصوت بالنداء، الحدیث:۶۰۹، ج۱، ص۲۲۲۔
3…المعجم الاوسط، من اسمہ احمد، الحدیث:۱۹۸۷، ج۱، ص۵۳۹۔
تاریخ بغداد، عصر بن حفص:۵۹۰۱، ج۱۱، ص۱۹۳۔
4…صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی، الحدیث:۶۱۱، ج۱، ص۲۲۳۔