نماز کا بیان
سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اپنے لطف وکرم سے بندوں کو ڈھانپا، دین اور احکامِ دین کے انوار سے ان کے دلوں کو آباد فرمایا، وہ ذات کہ عرشِ الٰہی سے آسمانِ دنیا کی طرف درجاتِ رحمت میں سے اس کی کوئی نہ کوئی مہربانی اُترتی رہتی ہے۔ وہ اپنے جلا ل وکبریائی میں یکتا ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہوں سے یوں بھی ممتاز ہے کہ وہ مخلوق کو سوال ودعا کی ترغیب دیتے ہوئے ارشادفرماتا ہے: ہے کوئی دعامانگنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اسے بخش دوں ؟ بادشاہوں کا اس سے کیا مقابلہ؟ اس نے تو دروازہ کھول کر پردہ اُٹھا دیا اور بندوں کو نماز میں مناجات کرنے کی اجازت دے دی، نہ صرف رخصت پر اکتفا کیا بلکہ دعوت وترغیب کے ذریعے بھی مہربانی فرمائی جبکہ دیگر دنیوی کمزور بادشاہ تو کسی کو تنہائی میں وقت بھی نہیں دیتے جب تک انہیں ہدیہ یا رشوت نہ دی جائے۔ پاک ہے وہ ذات، اس کی شان کتنی عظیم ہے۔ اس کی بادشاہت کتنی قوی ہے۔ اس کا لطف وکرم کتنا کامل ہے۔ اس کا احسان کتنا عام ہے۔ درود اور خوب سلام ہوں اس کے منتخب نبی اور پسندیدہ دوست حضرتِ سیِّدُنا محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کے آل واصحاب رِضْوَانُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر جو ہدایت کی کنجیاں اور تاریکیوں کے چراغ ہیں ۔
بے شک نماز دین کا ستون، یقین کا وسیلہ، عبادات کی اصل اور طاعات کی چمک ہے۔ ہم نے فن فقہ کی کتب ’’بَسِیْطُ الْمَذْھَب، وَسِیْطُ الْمَذْھَباور وَجِیْزُ الْمَذْہَب‘‘ میں نماز کے اصولی وفروعی مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ نیز بہت سے نادر و کم وقوع پذیرہونے والے مسائل ان میں درج کئے ہیں تاکہ یہ مفتی کے لئے خزانہ بن جائے اور بوقت ضرورت وہ اس کی طرف رجوع کرے اور اس سے مدد حاصل کرے۔ یہاں اس باب میں ہم صرف ان اعمالِ ظاہرہ اور اسرارِ باطنہ کو بیان کریں گے جن کا جاننا راہِ آخرت کے مسافر پر ضروری ہے۔ نیز خشوع وخضوع، اخلاص اور نیت کے وہ پوشیدہ معانی واضح کریں گے جنہیں عام طور پر فقہ میں بیان نہیں کیا جاتا اسے ہم سات ابواب پر تقسیم کرتے ہیں :(۱)…نماز کے فضائل (۲)…نماز کے ظاہری اعمال کی تفصیل (۳)…نماز کے باطنی اعمال کی تفصیل (۴)…امامت وپیشوائی کا بیان (۵)…نماز جمعہ اور اس کے آداب (۶)…متفرق مسائل جو عام طور پر پائے جاتے ہیں اور سالک کو ان سے آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے (۷)…نوافل وغیرہ کا بیان۔