نے مَردوں کو داڑھیوں سے زینت بخشی۔‘‘ (۱) نیزیہ تکمیل تخلیق کا باعث ہے۔ اسی سے مردو عورت میں تمیز ہوتی ہے۔
غریب التاویل میں منقول ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان: یَزِیۡدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُؕ (پ۲۲،فاطر:۱)ترجمۂ کنز الایمان:بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے۔‘‘ سے مراد داڑھی ہے۔
حضرت سیِّدُنا احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے شاگرد فرمایاکرتے تھے ہم چاہتے ہیں کہ ’’احنف کے لئے داڑھی خرید لیں اگرچہ 20 ہزار کی ملے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’میں چاہتا ہوں کہ میری داڑھی ہو اگرچہ 10ہزار کی ہو۔‘‘ (۳)
تم کیسے داڑھی کو ناپسند کر تے ہو حالانکہ اس میں مرد کی تعظیم ہے، اس کی طرف علم اور وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، مجالس میں بلند مقام دیا جاتا ہے، لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، اسے جماعت پر مقدم کرتے ہیں ، اس کی عزت محفوظ رہتی ہے کیونکہ گالی دینے والا شخص جسے گالی دے رہا ہے اگر اس کی داڑھی ہو تو پہلے اس کا ذکر کرتا ہے۔
با ریش جنتی:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا ہارون عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علاوہ تمام جنتی بغیر داڑھی کے ہوں گے اور آپ عَلَـیْہِ السَّلَامکی خصوصیت وفضیلت کے باعث آپ کی داڑھی ناف تک ہوگی۔ (۴)
{6}…اس خیال سے داڑھی کترکے تہ بہ تہ کرنا تاکہ عورتوں کی نظروں میں خوبصورت ہوخواہ تکلف سے ہی کیوں نہ ہو:حضرت سیِّدُناکعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’آخر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جو اپنی داڑھیوں کو کبوتر کی دم کی طرح کاٹیں (یعنی گول کریں )گے اور جوتوں سے درانتیوں جیسی آوازیں نکالیں گے ان کا (آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ (۵)
{7}…داڑھی بڑھانا: یعنی کنپٹیوں کے بالوں کو گالوں کے بال شمار کرنا، حالانکہ وہ سر کے بال ہیں یہاں تک کہ داڑھی بڑی ہو کر نصف رخسار تک پہنچ جاتی ہے اور یہ نیک لوگوں کی ہیئت کے خلاف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۰۔
2…المرجع السابق، ص۲۴۲۔
3…المرجع السابق، ص۲۴۲۔
4…المرجع السابق، ص۲۴۲، بتغیرٍقلیلٍ۔
5…المرجع السابق، ص۲۴۲۔