Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
451 - 1087
سیِّدُناسفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے بلند مرتبہ ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو چھوڑ کر اس نوجوان کے پیچھے چل رہے اور ان سے حدیث سن رہے ہیں ۔‘‘ فرمایا: ’’اگر تم انہیں پہچانتے تو ان کی دوسری طرف تم چل رہے ہوتے، اگر مجھے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے بلند مرتبہ کی وجہ سے ان کا علم نہ ملا تو نیچے آنے سے حاصل ہو جائے گا اور اگر میں اس نوجوان کی عقل سے استفادہ نہ کر پاؤں تو بلندی وپستی کہیں سے بھی علم حاصل نہ کرسکوں گا۔‘‘  (۱)
 مومن کا نور:
{4}…نفرت کے باعث سفید بالوں کواکھیڑنا: حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سفید بالوں کو اکھیڑنے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’ھُوَ نُوْرُ الْمُؤْمِنِ یعنی یہ مومن کا نور ہے۔‘‘  (۲)
 	سفید بال اُکھیڑنا سیاہ خضاب کے معنی میں ہے اور اس کے مکروہ ہونے کی علَّت گزر چکی ہے۔ نیز سفید بال اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی طرف سے نور ہے اور ان سے منہ پھیرنا نورِ الٰہی سے منہ پھیرنا ہے۔
{5}…بے مقصد اور خواہش کے تحت داڑھی یا اس کے کچھ بال اکھیڑنا: یہ مکروہ اور صورت کو بگاڑنا ہے اور بُچی (یعنی نچلے ہونٹ کے درمیانی بالوں ) کے دونوں اطراف کے بال اکھیڑنا بدعت ہے۔
	حضرت سیِّدُناعمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا وہ داڑھی کے اطراف کے بال اکھیڑتا تھا آپ نے اس کی گواہی رد کر دی۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مدینے کے قاضی حضرت سیِّدُنا ابن ابی لیلیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے داڑھی اکھیڑنے والے کی گواہی قبول نہ کی۔
فرشتوں کی قسم کا انداز:
	داڑھی اُگنے کی ابتدامیں امردوں سے مشابہت اختیار کرتے ہوئے داڑھی کے بال اکھیڑنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیونکہ داڑھی مَردوں کی زینت ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ فرشتے ان الفاظ میں قسم کھاتے ہیں : ’’اس ذات کی قسم جس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲،ص۲۴۴۔۲۴۵۔
2…سنن ابی داود، کتاب الترجل، باب فی نتف الشیب، الحدیث:۴۲۰۲، ج۴، ص۱۱۵۔