مدد فرمائے، ان کی عمر کتنی ہے؟‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عتاب بن اسیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مکہ معظمہ کا والی بنایا تو جتنی عمر اُن کی تھی (اتنی میری ہے)۔‘‘یوں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اسے لاجواب کردیا۔ (۱)
بکرے کی بھی داڑھی ہوتی ہے:
حضرت سیِّدُنا مالک بن اَنس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے بعض کتابوں میں پڑھا کہ تجھے داڑھی دھوکا نہ دے اس لئے کہ بکرے کی بھی داڑھی ہوتی ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابو عمرو بن علاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جس کا قد لمبا، سر چھوٹا اور داڑھی چوڑی ہوتو اس پر احمق ہونے کا حکم لگاؤ اگرچہ وہ امیہ بن عبد ِشمس ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (۳)
بوڑھا طالب علم:
حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’میں نے 80سالہ بوڑھے شخص کو ایک نوجوان کے پیچھے چلتے دیکھاوہ اس نوجوان سے علم حاصل کرتا تھا۔‘‘ (۴)
حضرت سیِّدُنا علی بن حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’جو علم میں تجھ پر سبقت لے گیا وہ تیرا امام ہے، اگرچہ عمر میں تجھ سے چھوٹا ہو۔‘‘ (۵)
حضرت سیِّدُنا ابو عمرو بن علاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے پوچھا گیا: ’’کیا بوڑھے شخص کو زیب دیتا ہے کہ وہ بچے سے علم حاصل کرے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر جہالت بری چیز ہے تو علم حاصل کرنا اچھی چیز ہے۔‘‘ (۶)
حصول علم کی جستجو:
حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن معین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کو حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کی سواری کے پیچھے چلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا: ’’اے ابوعبداللّٰہ!آپ حضرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۴۔
2…المرجع السابق۔
3…المرجع السابق۔
4…المرجع السابق۔
5…المرجع السابق۔
6…المرجع السابق۔