عطا فرماتا ہے اور تمام بھلائی جوانی میں ہے۔(۱)پھریہ تین آیاتِ مبارَکہ تلاوت فرمائیں :
{۱}
قَالُوۡا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہٗۤ اِبْرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۰﴾ (پ۱۷،الانبیاء:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان: ان میں کے کچھ بولے ہم نے ایک جوان کو انہیں برا کہتے سنا جسے ابراہیم کہتے ہیں ۔
{۲}
اِنَّہُمْ فِتْیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمْ وَزِدْنٰہُمْ ہُدًی ﴿٭ۖ۱۳﴾(پ۱۵،الکھف:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔
{۳}
وَ اٰتَیۡنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا ﴿ۙ۱۲﴾(پ۱۶،مریم:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی۔
آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کے سفیدبال:
حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وصال فرمایا توآپ کے سرانوراور داڑھی مبارک میں بیس(۲۰) سفید بال تھے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا: ’’اے ابوحمزہ !پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمرمبارک تو کافی ہوچکی تھی ۔‘‘ فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بڑھاپے کا عیب نہ لگایا۔‘‘ عرض کی گئی: ’’کیا یہ عیب ہے؟‘‘ فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک اسے ناپسند کرتا ہے۔‘‘ (۲)
کم عمری میں عہدۂ قضا:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ اکثم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمکو 21سال کی عمر میں عہدۂ قضا سونپا گیا توچھوٹی عمر کی وجہ سے ایک شخص نے رسوا کرنے کا ارادہ کیا ۔ چنانچہ، ایک بار مجلس میں اس نے پوچھا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّقاضی صاحب کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۴۔
2…صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی، الحدیث:۳۵۴۸، ج۲، ص۴۸۷۔
قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۴۔