سرخ یازرد رنگ کا خضاب لگانے کا حکم:
{2}…سرخ اور زرد رنگ کا خضاب لگانا: یہ جہاد میں کفار پر جوانی ظاہر کرنے کے لئے جائز ہے۔ اگر اس نیت سے نہ ہو بلکہ دین دار لوگوں سے مشابہت کے لئے ہو تو مذموم(برا) ہے۔ چنانچہ، مروی ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’زرد خضاب مسلمانوں کا خضاب ہے اور سرخ خضاب مؤمنین کا خضاب ہے۔‘‘ (۱) اورصحابۂ کرام اور تابعین عظام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سرخی کے لئے مہندی اور زردی کے لئے خلوق اور کتم(۲) لگاتے تھے نیز بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے جہاد کے لئے سیاہ خضاب لگایا ہے اور جب نیت صحیح ہو اور خواہشات کا عمل دخل نہ ہو تو اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں ۔
فضیلت کا باعث علم ہے نہ کہ بڑی عمر:
{3}…داڑھی کو گندھک سے سفید کرنا: تاکہ جلدی جلدی بڑی عمر ظاہر ہو، لوگ عزَّت کریں ، گواہی قبول کی جائے، مشائخ سے روایت کرنے پر تصدیق ہو جائے، جوانوں پر فوقیت حاصل ہو، کثرتِ علم کا اظہار ہو اور یہ خیال ہو کہ عمر کا زیادہ ہونا اس کے لئے باعث فضیلت ہوگا ،لیکن افسوس ! عمر کی زیادتی سے جاہل کی جہالت میں ہی اضافہ ہوتاہے کیونکہ علم تو عقل کا نتیجہ ہے اور یہ فطرتی چیز ہے اس میں بڑھاپا اثر انداز نہیں ہوتااور جس کی فطرت میں ہی حماقت ہوتو مدت کی طوالت اس کی حماقت کو پختہ کرتی ہے جبکہ مشائخِ کرام علم کی بدولت جوانوں کو ترجیح دیتے تھے (نہ کہ عمرکی زیادتی کے سبب)۔چنانچہ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو نوجوان ہونے کے باوجود بڑی عمر والے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے مقدَّم کرتے تھے اور انہیں سے پوچھتے تھے۔
حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کو جوانی میں ہی علم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، الصفرۃ خضاب المؤمن، الخ، الحدیث:۶۲۹۶، ج۴، ص۶۷۶۔
قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۲۔
2…خلوق:ایک خوشبو جو عنبر ، مشک اور کافور کی آمیزش (ملاوٹ) سے بنتی ہے۔کتم:ایک قسم کی گھاس جس کو مہندی میں ملاکر وسمہ اور اس کی جڑ پکا کر سیاہ روشنائی بناتے ہیں ۔ از علمیہ