Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
447 - 1087
سیاہ خضاب سے ممانعت کی روایات:
{1}…سیاہ خضاب لگانا: مکی مدنی سلطان، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے بہترین نوجوان وہ ہیں جو تمہارے بوڑھوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور تم میں سے بُرے بوڑھے وہ ہیں جو تمہارے نوجوانوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔‘‘  (۱)
	بوڑھوں سے مشابہت اختیار کرنے کا مطلب وقار میں مشابہت اختیار کرنا ہے نہ کہ بالوں کو سفید کرنے میں ۔ نیز سیاہ خضاب سے منع فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ھُوَ خِضَابُ اَہْلِ النَّاریعنی یہ جہنمیوں کا خضاب ہے۔‘‘  (۲)
	ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اَ لْخِضَابُ بِالسَّوَادِ خِضَابُ الْکُفَّار یعنی سیاہ خضاب کفار کا خضاب ہے۔(۳)
حکایت:دھوکے باز :
	امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زما نے میں ایک شخص نے نکاح کیا وہ سیاہ خضاب لگاتا تھا۔ جب خضاب اُترا تو بڑھاپا ظاہر ہو گیا عورت کے گھر والوں نے معاملہ عدالت ِ فاروقی میں پیش کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا نکاح فسخ کردیا اور اسے خوب مارا اور فرمایا: ’’تو نے ان لوگوں کو جوانی کے ساتھ دھوکا دیا اور بڑھاپے کو چھپایا۔‘‘منقول ہے کہ سیاہ خضاب سب سے پہلے فرعون ملعون نے لگایا۔(۴)
خوشبوئے جنت سے محروم لوگ:
	حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کبوتروں کے پوٹوں کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گے۔‘‘  (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۰۲، ج۲۲، ص ۲۲۔
2…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۲۔
3…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، الصفرۃ خضاب المؤمن، الخ، الحدیث:۶۲۹۶، ج۴، ص۶۷۶۔
4…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۲۔
5…سنن النسائی، کتاب الزینۃ، المنھی عن الخضاب بالسواد، الحدیث:۵۰۸۵، ص۸۱۲۔