مستحب ہیں انہیں بھی اس کے ساتھ ہی ذکر کردیا جائے کیونکہ یہاں ان باتوں کا ذکر زیادہ مناسب ہے۔
(ایک مٹھی سے) زائد داڑھی (کاٹنے)میں اختلاف ہے ۔ منقول ہے کہ اگر آدمی اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر زائد حصے کو کاٹ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔کہ حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر اور تابعین رَضِیَ اللّٰہِ تَعَالٰی عَنْہُم کے ایک گروہ نے ایسا کیا اور حضرت سیِّدُنا امام شعبی اورحضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَانے اسے اچھا جانا جبکہ حضرت سیِّدُناحسن بصری اورحضرت سیِّدُناقتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَانے اسے مکروہ قرار دیا اور فرمایا: ’’اسے بڑھا ہوا چھوڑنا زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ سرکار دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اُعْفُوْا اللِّحْیَۃیعنی داڑھیاں بڑھاؤ۔‘‘ (۱)
اگر داڑھی کاٹنے اور کناروں سے گول کرنے کی نوبت نہ آئے تو (ایک مٹھی سے )زائدداڑھی کاٹنے میں مضائقہ نہیں کیونکہ حد سے بڑھی ہوئی داڑھی کبھی صورت کو بگاڑ دیتی اور غیبت کرنے والوں کی زبانیں کھول دیتی ہے۔ لہٰذا اس نیت کی بنا پر اس سے بچنے میں حرج نہیں ۔ حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’مجھے طویل داڑھی والے عقل مند شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بڑھی ہوئی داڑھی کیوں نہیں کاٹتا اور اسے دو داڑھیوں کے درمیان کیوں نہیں کرتا اس لئے کہ ہر چیز میں اعتدال اچھا لگتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ جب داڑھی (زیادہ)بڑھ جاتی ہے تو عقل رخصت ہوجاتی ہے۔‘‘ (۲)
داڑھی کے مکروہات:
دس باتیں داڑھی میں مکروہ (ناپسندیدہ) ہیں اور بعض بعض سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں : (۱)…سیاہ خضاب لگانا (۲)…گندھک سے سفید کرنا (۳)…(مطلقاً داڑھی کے بال)اکھیڑنا (۴)…سفید بال اکھیڑنا (۵)…داڑھی میں کمی یا زیادتی کرنا(۶)…ریا کاری کی نیت سے کنگھی کرنا (۷)…زہد دکھانے کی نیت سے کنگھی کے بغیر بال بکھرے چھوڑدینا (۸)…جوانی پر فخر کرتے ہوئے ا س کی سیاہی پر خود پسندی میں مبتلا ہونا (۹)…بڑی عمر پر تکبر کرتے ہوئے اس کی سفیدی پر خوش ہونا اور (۱۰)…سرخ اور پیلا خضاب لگانا جبکہ صالحین کے ساتھ مشابہت کی نیت نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث:۲۵۹، ص۱۵۴۔
2…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۴۔