Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
445 - 1087
کی مخالفت کرتے ہوئے اگلے دانت نکلنے تک تاخیر کرنا پسندیدہ اور خطروں سے دور ہے(۱)۔ مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ختنہ کرنا مردوں کے لئے سنت اور عورتوں کے لئے باعث ِعزت ہے(۲)۔‘‘  (۳)
	عورتوں کے ختنہ میں مبالغہ نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا    بچیوں کے ختنے کیا کرتی تھیں ، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اے اُمِّ عطیہ! ذرا سی بو سنگھا دو اور زیادہ نہ کاٹو کیونکہ اس سے چہرے کی تازگی زیادہ ہوگی اور خاوند لذَّت زیادہ پائے گا۔‘‘ (۴) یعنی چہرے کی رونق اور خون زیادہ ہوگا اورجماع میں شوہر زیادہ لطف اندوز ہوگا۔
	پس غورکیجئے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس طرح کنایۃًپیارے انداز میں بیان فرمایا اور نورِ نبوت کی چمک کو دیکھیں کہ اس نے کس طرح اُخروی مقاصد کو دنیوی مقاصد تک پہنچایا یہاں تک کہ آپ پر یہ باتیں منکشف ہوگئیں حالانکہ آپ نے(مخلوق میں ) کسی سے پڑھا نہیں تھا۔ اگر یہ باتیں واضح نہ ہوتیں اور آپ سے غفلت کے باعث صادر ہوتیں تو اس کے نقصان کا خوف ہوتا پاک ہے وہ ذات جس نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تاکہ آپ کی بعثت کی برکت سے دین ودنیا کی بھلائیاں جمع ہوجائیں ۔
(۸)…داڑھی کے بڑھے ہوئے بال کاٹنا: اسے ہم نے آخر میں اس لئے ذکر کیاتاکہ اس میں جو باتیں سنت یا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد3 صفحہ589پر ہے: ختنہ کی مدت سات سال سے بارہ سال کی عمر تک ہے اور بعض علما نے یہ فرمایاکہ ولادت سے ساتویں دن کے بعد ختنہ کرنا جائز ہے۔
2…بہار شریعت جلد3 صفحہ589پرمزیدفرما تے ہیں : ’’ختنہ سنت ہے اور یہ شعارِ اسلام ہے کہ مسلم وغیر مسلم میں اس سے امتیاز ہوتا ہے اسی لیے عرفِ عام میں اس کو مسلمانی بھی کہتے ہیں ۔‘‘  
	اورلڑکیوں کے ختنے کے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین وملت، شاہ امام احمد رضا خان عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں پاک وہند میں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسیں گے اور یہ ان کے گناہِ عظیم میں پڑنے کا سبب ہو گا او ر حفظ ِ دینِ مسلمانان واجب ہے۔ لہٰذا یہاں (پاک وہند میں ) اس کا حکم نہیں ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ،ج۲۲، ص۶۸۰)
3…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند البصر یین، حدیث أسامۃ الھذلی، الحدیث:۲۰۷۴۵، ج۷، ص۳۸۱۔
4…السنن الکبری للبیھقی، کتاب الاشربۃ، باب السلطان یکرہ علی الاختتان، الحدیث:۱۷۵۵۹، ج۸، ص۵۶۲۔