Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
444 - 1087
 دائیں آنکھ افضل ہونے کے سبب اس کا زیادہ حق رکھتی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر کہا جائے کہ بائیں آنکھ میں دو پر کیوں اکتفا کیا گیا حالانکہ یہ جفت ہے؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ضرورت کے تحت کیا گیا ہے کیونکہ ہر آنکھ میں طاق عدد میں لگا نے سے اس کا مجموعہ جفت ہو جاتا۔ کیونکہ طاق اور طاق مل کر جفت ہوجاتے ہیں اور فعل کے مجموعہ میں طاق کا خیال رکھنا ایک ایک میں طاق کا خیال رکھنے سے بہتر ہے اس کی ایک اور صورت بھی ہے وہ یہ کہ وضو پر قیاس کرتے ہوئے ’’دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں لگائے‘‘ (۱)اور یہی زیادہ بہتر ہے۔
	الغرض اگر میں ان تمام باتوں کی باریکیوں کی تلاش میں لگ جاؤں جن کا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے افعال میں خیال رکھا ہے تو بات طویل ہو جائے گی ۔ لہٰذا جو کچھ تم نے سنا اسی پر اسے بھی قیاس کر لو جو نہیں سنا۔
	جان لیجئے کہ کوئی عالم اس وقت تک حضور نبی ٔاکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وارث نہیں بن سکتا جب تک کہ شریعت کے تمام معانی پر آگاہ نہ ہو جائے یہاں تک کہ اس کے اور حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان صرف ایک درجہ فرق رہ جائے اور وہ درجۂ  نبوت ہے اور یہی درجہ وارث اور مورث کے درمیان فرق کرنے والا ہے کیونکہ مورث وہ ہوتا ہے جسے مال حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کے حصول میں مشغول ہوتا ہے اور وہ اس پر قادر ہوتا ہے جبکہ وارث وہ ہوتا ہے جسے مال حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس پر قادر ہوتا ہے لیکن جب وہ مال مورث کو حاصل ہوتاہے تو اس کے بعد وارث کی طرف منتقل ہوتا ہے اور یہ اس سے لے لیتا ہے۔
	یہ ایسی باتیں ہیں کہ گہرائی اور پوشیدگی کے اعتبار سے باوجود آسان ہونے کے ابتداء ًا ان کا ادراک صرف انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ہی ہوتا ہے پھر ان کی طرف سے آگاہی کے بعد استنباط کے ذریعے صرف علماہی جان سکتے ہیں کیونکہ وہ انبیائے کرام  عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔
(۶،۷)…ناف اور قلفہ کا بڑھا ہوا حصہ: ناف(کا بڑھا ہوا حصہ) تو ولادت کے وقت کاٹ دیا جاتا ہے اور ختنہ کے ذریعے طہارت حاصل کرنے میں یہودیوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ولادت کے ساتویں دن ختنہ کرتے ہیں لیکن ان 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، باب من اکتحل وترا، الحدیث:۳۴۹۹، ج۴، ص۱۱۶۔