Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
443 - 1087
 ترتیب وار چھنگلیا سمیت ناخن تراشیں مگر انگوٹھا چھوڑ دیں ۔ اب الٹے ہاتھ کی چھنگلیا سے شروع کرکے ترتیب وار انگوٹھے سمیت ناخن تراش لیں ۔ اب آخر میں سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا جو باقی تھا اس کا ناخن بھی کاٹ لیں ۔ اس طرح سیدھے ہاتھ ہی سے شروع ہوا اور سیدھے ہاتھ ہی پر ختم ہوا (حضرت سیِّدُناامام محمد غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :) میں نے کتابوں میں ناخن کاٹنے کی ترتیب کے متعلق کوئی روایت نہیں دیکھی البتہ، میں نے مشائخ سے سناہے کہ حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے (ناخن کاٹنے)شروع فرماتے اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ختم فرماتے اور بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم فرماتے ۔
پاؤں کے ناخن تراشنے کا احسن طریقہ:
	جہاں تک پاؤں کی انگلیوں کا تعلق ہے کہ اگر ان کے متعلق کوئی روایت نہ ہو تو اس میں میرے نزدیک بہتریہ ہے کہ دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے جیسے ان کا خلال کیا جاتا ہے ۔
سرمہ لگانے کا مسنون طریقہ:
	افعال کی ترتیب کے سلسلے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سرمہ لگانے کو ہی دیکھ لیجئے کہ نبیوں کے سلطان،رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دائیں آنکھ میں تین اور بائیں آنکھ میں دو سلائیاں لگاتے تھے اور دائیں آنکھ کی شرافت کی وجہ سے اس سے آغاز کرتے۔(۱)
	دونوں آنکھوں میں سرمہ ڈالتے ہوئے فرق اس لئے رکھتے تھے تاکہ مجموعہ طاق ہوجائے کہ طاق کو جفت پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ’’اللّٰہسُبْحَانُـــہٗ وَتَعَالٰی وتر(طاق) ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (۲)  لہٰذاایسا نہیں ہونا چاہئے کہ بندے کا کوئی فعل اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے اوصاف میں سے کسی وصف سے مناسبت نہ رکھتا ہو۔ اسی لئے استنجا کرتے ہوئے طاق پتھر استعمال کرنا مستحب ہے اور (سرمہ لگانے میں ) تین بار پر اکتفا نہیں کیا گیا حالانکہ یہ طاق عدد ہے کیونکہ اس طرح بائیں آنکھ میں صرف ایک بار سرمہ لگانا پڑتا اور غالب یہ ہے کہ ایک بار سرمہ لگانا پلکوں کی جڑوں تک بھی نہیں پہنچتا اور (بائیں کے مقابلے میں ) دائیں آنکھ میں تین سلائیاں لگانے کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت طاق عدد میں ہے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۳۳۵۳، ج۱۲، ص۲۷۹، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…صحیح مسلم،کتاب الذکرو الدعاء والتوبۃ…الخ،باب فی اسماء اللّٰہ تعالی…الخ، الحدیث:۲۶۷۷،ص۱۴۳۹۔