Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
442 - 1087
(۳)…بغلوں کے بال: 40 دن کے اندر اندربغلوں کے بال اکھیڑنا مستحب ہے۔ جو شخص ابتدا میں ہی اکھیڑنے کی عادت بنا لے اس کے لئے اکھیڑنا آسان ہے لیکن جو شروع سے مونڈنے کی عادت بنائے اس کے لئے مونڈنا کافی ہے کیونکہ اکھیڑنے میں اپنے آپ کو عذاب اور تکلیف میں مبتلا کرنا ہے اور مقصود صفائی کا حصول او ر یہ کہ اس میں میل کچیل جمع نہ ہو اور یہ چیز مونڈنے سے حاصل ہوجاتی ہے۔
(۴)…زیرِناف بال: ان بالوں کو مونڈنا یا چونا لگا کر دور کرنا مستحب ہے اور 40دن سے تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔
(۵)…ناخن تراشنا: یہ مستحب ہے کیونکہ بڑھے ہوئے ناخن برے لگتے ہیں نیز ان میں میل جمع ہوجاتا ہے۔ 
شیطان کے بیٹھنے کی جگہ:
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’اے ابوہریرہ! اپنے ناخنوں  کو کاٹو کیونکہ بڑھے ہوئے ناخنوں پر شیطان بیٹھتا ہے۔‘‘  (۱)
	مسئلہ:اگر ناخنوں میں میل ہوتو یہ وضو کے صحیح ہونے سے مانع نہیں کیونکہ یہ پانی پہنچنے کو نہیں روکتی نیز اس وجہ سے کہ اس میں غفلت ہو جاتی ہے اور ضرورت کے تحت اس میں نرمی کی جاتی ہے خصوصاً مرد کے ناخنوں کے معاملے میں ۔ اسی طرح عربیوں اور دیہاتیوں کی انگلیوں کے جوڑوں اور ہاتھوں اور پاؤں کی پیٹھ پر جو میل جمع ہو جاتا ہے وہ بھی وضو سے مانع نہیں ۔کہ حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ناخنوں کے کاٹنے کا حکم فرماتے تھے(۲) اوران کے میل کو ناپسند فرماتے لیکن (اس حالت میں پڑھی گئی)نماز لوٹانے کا حکم نہ فرماتے، اگر کبھی حکم دیا بھی تو اس سے مقصود ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ ہوتی تھی۔ (اس مقام پر حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے ہاتھوں کے ناخن کاٹنے کے متعلق ایک نفیس و پیچیدہ بحث فرمائی ہے ۔اہل علم حضرات اصل کتاب کی طرف رجوع فرمائیں ۔ خلاصہ یہ ہے)
ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ:
	حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے منقول ہے کہ سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شروع کرکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…فردوس الاخبارللدیلمی، باب القاف، الحدیث:۴۶۱۴، ج۲، ص۱۵۴، بخطاب علی رضی اللّٰہ عنہ۔
2…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث:۲۵۷۔۲۵۸، ص۱۵۳۔