Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
441 - 1087
	 ایک روایت میں ’’جُزُّوْا الشَّوَارِبَ‘‘ (۱) کے الفاظ ہیں ۔ ایک روایت میں ہے : ’’حُفُّوْا الشَّوَارِبَ وَاعْفُوْا اللِّحٰییعنی مونچھوں کوپست کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔‘‘  (۲)
	بہرحال جہاں تک مونڈنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں کوئی روایت مروی نہیں اوراحفا مونڈنے کے ہی مترادف ہوتا ہے ۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے اسی طرح منقول ہے۔
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی یاد تازہ ہوگئی:
	تابعین میں سے کسی نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی مونچھیں اکھیڑی ہوئی تھیں تو فرمایا: ’’تو نے مجھے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی یاد دلا دی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری طرف دیکھا کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں تو ارشاد فرمایا: ’’ادھر آؤ۔‘‘ چنانچہ ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسواک پر میری مونچھیں تراش دیں ۔  (۳)
	مونچھوں کے کنارے والے بالوں کو چھوڑنے میں حرج نہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم اور دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن  نے اس طرح کیا ہے، اس لئے کہ یہ حصہ نہ تومنہ کو ڈھانپتا ہے اور نہ ہی اس میں کھانے کی چکناہٹ باقی رہتی ہے کیونکہ وہ اس جگہ تک نہیں پہنچتی۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان ’’اُعْــفُـــوْا اللِّـــحٰی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ داڑھیاں بڑھاؤ۔
یہود کی مخالفت کرو:
	حدیث ِ پاک میں ہے کہ ’’یہود مونچھیں بڑھاتے اور داڑھیاں کاٹتے ہیں ، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو۔‘‘ (۴) بعض علما نے مونچھیں مونڈنے کو مکروہ سمجھا اور اسے بدعت قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث:۲۶۰، ص۱۵۴۔
2…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث:۲۵۹، ص۱۵۴، بلفظ ’’احفو‘‘۔
3…سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب فی ترک الوضوء ممّا مست النار، الحدیث:۱۸۸، ج۱، ص۹۶۔
4…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباھلی، الحدیث:۲۲۳۴۶، ج۸، ص۳۰۰۔
                قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۲۔