{۸}
وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا یَعْقِلُہَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾ (پ۲۰،العنکبوت:۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
{۹}
وَلَوْ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنْہُمْ ؕ (پ۵، النسآء:۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے توضرور اُن سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں ۔
واقعات کے فیصلے کو علمائے کرام کے اجتہاد کی طرف لوٹا کر حکمِ الٰہی کے اظہار میں ان کادرَجہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درَجے سے ملایا۔
{۱۰}
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدْ اَنۡزَلْنَا عَلَیۡکُمْ لِبَاسًا یُّوٰرِیۡ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ (پ۸، الاعراف:۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اے آدم کی اولاد بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا۔
ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں لِبَاسًا سے علم رِیۡشًا سے یقین اور لِبَاسُ التَّقْوٰی سے حیا مراد ہے۔
{۱۱}
وَلَقَدْ جِئْنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ (پ۸، الاعراف:۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا۔
{۱۲}
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ بِعِلْمٍ (پ۸، الاعراف:۷) ترجمۂ کنزالایمان: تو ضرور ہم ان کو بتا دیں گے اپنے علم سے۔
{۱۳}
بَلْ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں