البتہ ظاہری الفاظ کے ذریعے شیطان سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی پناہ طلب کرنے میں حرج نہیں ۔ غروب آفتاب کے وقت اور مغرب وعشا کے درمیان حمام میں جانا مکروہ ہے کیونکہ یہ وقت شیاطین کے منتشر ہونے کا ہے ۔ حمام میں کسی دوسرے کے جسم کو ملنے میں حرج نہیں ۔
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے وصیت فرمائی کہ مجھے فلاں شخص غسل دے وہ آپ کے مصاحبین میں سے نہ تھا اور فرمایا کہ ’’ اس شخص نے ایک مرتبہ حمام میں میرے جسم کو ملا تھا لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ اسے اس کا ایسا بدلہ دوں کہ وہ خوش ہو جائے اور وہ اسی طریقے سے خوش ہوگا۔‘‘
بعض صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی روایات بھی جسم ملنے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ چنانچہ، مروی ہے کہ مدینے کے تاجور، محبوب رب اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک سفر میں کسی مقام پر پڑاؤ کیا اور پیٹ کے بل لیٹ گئے، ایک سیاہ فام غلام آپ کی پیٹھ مبارَک دبانے لگا۔ (راوی کہتے ہیں :)میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میں اونٹنی سے گِرگیاتھا۔‘‘ (۱)
جیسے ہی حمام سے فارغ ہو تو اس نعمت پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے۔ کہا گیا ہے کہ ’’سردیوں میں گرم پانی نعمتوں میں سے ہے جس کے متعلق اس سے پوچھ گچھ ہوگی۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’حمام جدیدنعمتوں میں سے ہے۔‘‘ (۲) یہ حکم شرعی اعتبار سے ہے۔
چند مفید باتیں :
ا َطِبّاکہتے ہیں کہ ’’چونے سے (زیر ناف بال صا ف کرکے) حمام میں جانا کوڑھ کے مرض سے امان ہے۔‘‘منقول ہے کہ ’’(زیرناف بال صاف کرنے کے لئے) مہینے میں ایک بار چونے کا استعمال صفراء کی گرمی کو ختم کرتا، رنگ کو صاف کرتا اور قوتِ جماع میں اضافہ کرتا ہے۔‘‘یہ بھی منقول ہے کہ ’’سردیوں میں حمام میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا دوا سے زیادہ مفید ہے۔‘‘نیز یہ بھی منقول ہے کہ ’’گرمیوں میں حمام سے نکلنے کے بعد سو جانا دوا پینے کے قائم مقام ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، من اسمہ موسی، الحدیث:۸۰۷۷، ج۶، ص۸۱، مفہومًا۔
قوت القلوب الفصل، السادس والاربعون فیہ کتب ذکر دخول الحمام، ج۲، ص۴۳۰۔
2…قوت القلوب، الفصل السادس والاربعون فیہ کتب ذکر دخول الحمام، ج۲، ص۴۲۹۔