راہِ آخرت کے مسافر کی پہچان:
مثلاً کوئی کپڑے کاتاجر ، بڑھئی، معمار او رجولاہا جب کسی آباد مکان میں جائیں کہ جس میں قالین بچھاہواہو اور انہیں غور و فکر میں گم پائے تَو تُو دیکھے گا کہ کپڑے والا قالین دیکھ کراس کی قیمت میں غور کر رہا ہو گا ، جولاہا کپڑے کی بناوٹ میں غور کر رہا ہو گا ، بڑھئی چھت بننے کے طریقے پر غو رکر رہا ہو گا اور معمار اس کی دیواروں کو دیکھ کر ان کے مضبوط اور سیدھے ہونے کے متعلق سو چ رہا ہو گا۔ اسی طرح راہِ آخرت کا مسافر جب بھی کسی چیز کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے لئے نصیحت اور آخرت کی یاد بن جاتی ہے بلکہ وہ کوئی بھی چیز دیکھتا ہے تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّاس میں اس کے لئے عبرت کا راستہ کھول دیتا ہے اگر وہ سیاہی کو دیکھتا ہے تو اسے قبر کی تاریکی یاد آتی ہے ، اگر سانپ کو دیکھتا ہے تو اسے جہنم کے سانپ یاد آتے ہیں ، اگر کسی بدصورت چیز کو دیکھتا ہے تو منکر نکیر اور زبانیہ (فرشتوں کا ایک گروہ جونافرمانوں کو جہنم کی طرف دھکیلنے پر معمور ہے ) کویاد کرتا ہے ، اگر کوئی خوف ناک آواز سنتاہے تو صور کاپھونکنایاد آجاتاہے ، اگر کسی اچھی و خوبصورت چیز کو دیکھتاہے توجنت کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے ،اگر کسی بازار یا گھر سے انکار یا قبولیت کی کوئی بات سنتا ہے تو اپنے اُخروی معاملے میں حساب کتاب کے بعد اپنے مقبول یا مردود ہونے کو یاد کرتا ہے ۔زیادہ مناسب ہے کہ عقل مند کے دل پر یہ بات چھائی رہے کیونکہ دنیا کے کام ہی اسے ان اُمور سے روکتے ہیں ۔ لہٰذا جب بھی وہ دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کا آخرت میں ٹھہرنے کی مدت سے مقابلہ کرے گا اسے حقیر جانے گا بشرطیکہ وہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جن کے دل غافل اور بصیرت ختم ہو چکی ہے۔
(۱۰)…حمام میں داخل ہونے والے کے لئے یہ اُمور بھی سنت ہیں کہ داخل ہوتے وقت سلام نہ کرے اگر اسے کوئی سلام کرے تو اس پرلفظ سلام کے ساتھ جواب دینا واجب نہیں اگر کوئی دوسرا شخص جواب دے دے تو خاموش رہے اور اگر بولناچاہے تو یوں کہے: ’’عَافَاکَ اللّٰہُ یعنی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّتجھے عافیت عطا فرمائے۔‘‘ حمام میں داخل ہونے والے کے لئے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ابتدائے کلام میں یوں کہے: ’’عَافَاکَ اللّٰہُ یعنی: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے عافیت عطا فرمائے۔‘‘ نہ حمام میں زیادہ باتیں کرے اور نہ ہی بلندآواز سے تلاوت کرے (۱)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…فتاویٰ فقیہ ملت،جلد1صفحہ69 پر حضرت علامہ مولانا جلال الدین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : غسل کرتے وقت کلمہ و درود شریف پڑھنا منع اور خلاف سنت ہے کہ اس وقت کسی قسم کا کلام کرنے اور دُعا پڑھنے کی اجازت نہیں ۔