Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
437 - 1087
 جائے گی اور دل بھی خوش ہوجائے گا۔
 (۳)…داخل ہوتے وقت بایاں پاؤں اندر رکھے۔
 حمام میں داخل ہونے سے پہلے کی دُعا:
(۴)…داخل ہونے سے پہلے یہ دُعا پڑھے: ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِیْثِ الْمُخْبِثِ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِیعنی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے سخت ناپاکی اور نہایت شریرپلید شیطان مردود سے میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘
(۵)…اس وقت حمام میں جائے جب کوئی نہ ہو یا حمام کو خالی کرائے کیونکہ اگر حمام میں صرف دیندار اور محتاط لوگ ہوں تو ننگے بدنوں کی طرف دیکھنا حیا کی کمی پر دلالت کرتا ہے اور یہ چیز شرمگاہوں کو دیکھنے کا خیال لاتی ہے پھراعضاء کو  حرکت دینے سے انسان اس سے نہیں بچ سکتا کہ چادر کا پلو ہٹ جائے اور شرمگاہ ظاہر ہو جائے تو یوں لاشعوری طور پر شرمگاہ پر نظر پڑ جائے گی۔ اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنی دونوں آنکھوں پر پٹی باندھی۔ 
(۶)…حمام میں داخل ہونے سے پہلے اپنے دونوں پہلو دھوئے۔
 (۷)…گرم حمام میں داخل ہونے میں جلدی نہ کرے جب تک کہ پہلے پسینہ نہ آجائے ۔
(۸)…پانی زیادہ استعمال نہ کرے بلکہ بقدر حاجت پر اکتفا کرے کیونکہ حالات و قرائن کے مطابق اسی کی اجازت ہے ۔نیز زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں اگر حمامی کو پتا چل جائے تو وہ ناپسند کرے گا خصوصاً جبکہ پانی گرم ہو کیونکہ اس پر خرچ کرنا پڑتا اور تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔
(۹)…حمام کی گرمی سے جہنم کی تپش کو یاد کرے اور کچھ دیر کے لئے خود کو گرم گھر میں قید سمجھے اور اسے جہنم پر قیاس کرے کیونکہ یہ جہنم کے ایک گھر کے مشابہ ہے جس کے نیچے آگ اور اوپر تاریکی ہے، ہم اس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتے ہیں بلکہ عقل مند ایک لمحے کے لئے بھی آخرت کی یاد سے غافل نہیں ہوتا کیونکہ اس نے ادھر ہی جانا ہے اور وہی اس کا ٹھکانا ہے ۔پس عقل مندپانی اور آگ وغیرہ جو بھی چیز دیکھے اسے اس سے عبرت اور نصیحت ہی حاصل کرنی چاہئے ۔ اس لئے کہ انسان اپنی ہمت کے مطابق ہی دیکھتا ہے۔