Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
436 - 1087
 حرام کام سے روک کر دوسرے حرام کام کا مرتکب بنا دے۔ البتہ وہ عذر پیش کرتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ بات اسے فائدہ نہ دے گی اور نہ ہی وہ اس پرعمل کرے گا بلکہ اس پر یاد دلانا لازم ہے کیونکہ دل انکار سننے کے تاثرسے خالی نہیں ہوتا اور گناہوں کے یاد دلانے سے بچنے کے مواقع ہوتے ہیں اور یہ بات اس کام کو اس کی نگاہوں میں قبیح قرار دیتی اور اسے اس سے نفرت دلاتی ہے۔ لہٰذا اسے (یعنی برائی سے منع کرنے کو)چھوڑنا نہیں چاہئے۔ اسی بنا پر آج کل احتیاط کے طور پر حمام میں جانا چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ شرمگاہوں کو ننگا کرنا ہی پڑتا ہے خصوصاً ناف کے نیچے اور شرمگاہ سے اوپر کی جگہ کیونکہ لوگ اسے قابلِ ستر نہیں سمجھتے حالانکہ شریعت نے اسے ستر میں شمار کیا ہے اور گویا اسے ستر کی حد قرار دیا۔ اس لئے حمام میں تنہاجانا مستحب ہے۔
	حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث حافی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’میں اس شخص کو ملامت نہیں کرتا جس کے پاس صرف ایک درہم ہو اور وہ حمام والے کو اس لئے دے دے کہ وہ اس کے لئے حمام خالی کردے۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کو حمام میں یوں دیکھا گیا کہ ’’آپ کا چہرہ دیوار کی طرف تھا اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔‘‘  (۲)
	بعض علما نے فرمایا: ’’حمام میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں لیکن دو چادریں ہوں ایک چادر ستر پوشی کے لئے  اور ایک سرپر اوڑھنے کے لئے تاکہ شرمگاہ اور آنکھوں کی حفاظت ہو۔‘‘  (۳)
حمام میں داخل ہونے کی دس سنتیں :
(۱)…نیت کرے یوں کہ نماز کے لئے جو زینت پسندیدہ ہے اس کے لئے پاکیزگی حاصل کرنے کی نیت کرے ، دنیا کے لئے یا خواہشات پر عمل کرنے کی نیت نہ کرے ۔
(۲)…داخل ہونے سے پہلے حمام والے کو اُجرت دے کیونکہ جتنا فائدہ وہ اٹھائے گا وہ مجہول ہے اور حمام والے کو نہ جانے کتنی دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ اندر جانے سے پہلے اجرت دینے سے دونوں عوضوں میں سے ایک کی جہالت ختم ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۴۲۹۔
2…قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۴۲۹۔
3…فیض القدیر، حرف الباء، تحت الحدیث:۳۱۸۱، ج۳، ص۲۷۸۔