سب سے بہتر اور سب سے بدتر گھر:
حضرت سیِّدُناابودرداء اور حضرت سیِّدُناابو ایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ’’بہترین گھر حمام ہے کہ یہ بدن کو پاک کرتا اور آگ کی یاد دلاتا ہے۔‘‘ (۱)جبکہ بعض صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے منقول ہے کہ ’’بدترین گھر حمام ہے کہ یہ شرمگاہ کو ظاہر کرتا اور حیا کو ختم کرتا ہے۔‘‘ (۲) یہ دوسرا قول حمام کی آفت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ پہلا قول اس کے فائدے کو بیان کرتا ہے۔ لہٰذا آفت سے بچتے ہوئے فائدے کو طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن حمام میں داخل ہونے والے کے لئے کچھ چیزیں سنتیں اور کچھ واجب ہیں ۔
حمام میں داخل ہونے والے پر واجب امور:
حمام میں داخل ہونے والے پر دو چیزیں اپنی شرمگاہ اور دو دوسرے کی شرمگاہ کے حوالے سے واجب ہیں :
(۱)…اپنی شرمگاہ کے حوالے سے اس پر واجب ہے کہ اسے دوسروں کے دیکھنے اور چھونے سے بچائے۔اس کی میل اپنے ہاتھوں سے دُور کرے اور ملنے والے کو رانوں اور ناف کے نیچے سے شرمگاہ تک کے حصے کو ہاتھ لگانے سے منع کرے۔ میل دور کرنے کے لئے شرمگاہ کے علاوہ دوسری جگہوں کو ہاتھ لگانے میں جواز کا احتمال ہے لیکن قیاس یہی ہے کہ حرام ہو کیونکہ حرمت کے معاملے میں شرمگاہوں کو چھونے کاوہی حکم ہے جو دیکھنے کا ہے ۔ اسی طرح باقی پردے کی جگہوں (یعنی رانوں ) کا بھی یہی حکم ہونا چاہئے۔
(۲)…دوسرے کی شرمگاہ کے سلسلے میں اس پر واجب ہے کہ اپنی نگاہیں اس سے بچائے او راسے پردے کی جگہ کھولنے سے منع کرے کیونکہ برائی سے منع کرنا واجب ہے۔ اس پر یاد دلانا واجب ہے عمل کروانا واجب نہیں اور جب تک اسے کسی کی طرف سے مارنے یا گالی گلوچ کرنے یا کسی دوسرے حرام کام کا خوف نہ ہو تب تک اس سے یہ (یعنی برائی سے منع کرنے کی)ذمہ داری ساقط نہیں ہوگی ۔ اگر ان میں سے کوئی صورت ہوتو اس پر لازم نہیں کہ وہ کسی کو ایک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مرقاۃ المفاتیح، کتاب اللباس، الفصل الثانی، تحت الحدیث:۴۴۷۶، ج۸، ص۲۵۵، بتغیرٍقلیلٍ۔
المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الطہارات، من رخص فی دخول الحمام، الحدیث:۱، ج۱، ص۱۳۳، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…السنن الکبری للبیھقی، کتاب القسم والنشوز، باب ماجاء فی دخول الحمام، الحدیث:۱۴۸۰۸، ج۷، ص۵۰۵۔
فردوس الاخبارللدیلمی، باب الباء، الحدیث:۱۹۷۲، ج۱، ص۲۷۶۔