کھانے کے بعد ہاتھ نہیں دھوتے تھے جس کی وجہ سے انگلیوں کی سلوٹوں میں میل جمع ہوجاتی تھی تو سرکارِ مدینہ، راحت ِقلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں جوڑوں کے دھونے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (۱)
(۷)…انگلیوں کے پوروں کی صفائی: ’’مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہل عرب کو ان کی صفائی کا حکم دیا(۲) اور ناخنوں میں جمع ہونے والی میل کچیل کو صاف کرنا کیونکہ (ناخن تراشنے کے لئے)ہر وقت قینچی وغیرہ میسر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ناخنوں میں میل جمع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ’’سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ناخن تراشنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے چالیس دن مقرر فرمائے۔‘‘ (۳) مگر ان کی صفائی کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا۔(۴)
مروی ہے کہ ایک بار کچھ دن وحی نہ آئی پھرجب سیِّدُناحضرت جبرئیل عَلَـیْہِ السَّلَامبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو (آپ کے استفسار فرمانے پر) عرض کی: ’’ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس کیسے آئیں جبکہ آپ (کے امتی) نہ اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو دھوتے ہیں ، نہ پوروں کو صاف کرتے ہیں اورنہ ہی مسواک سے دانت صاف کرتے ہیں ۔ لہٰذا اپنی امت کو اس کا حکم دیں ۔‘‘ (۵)
ناخنوں کے میل کو ’’اُف‘‘ اور کانوں کے نیچے کے میل کو’’تُف‘‘ کہا جاتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ (پ۱۵،بنی اسراء یل:۲۳)اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ والدین کو ناخنوں کے میل کچیل کے ذریعے تکلیف نہ دو۔ ایک قول یہ ہے کہ والدین کو اتنی بھی اذیت نہ دو جتنی تم ناخنوں کے میل کچیل سے محسوس کرتے ہو۔
(۸)…پسینہ بہنے اور گرد وغبار پڑنے کی وجہ سے تما م بدن پر جمع ہوجانے والا میل کچیل: اسے غسل سے دُو ر کیا جاتا ہے۔ (اس کے لئے)حمام میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں کہ بعض صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن شام کے حماموں میں جایا کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب السواک من الفطرۃ، الحدیث:۵۳، ج۱، ص۵۳۔
2…قوت القلوب الفصل الثالث والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۳۹۔
3…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث:۲۵۸، ص۱۵۳۔
4…قوت القلوب الفصل الثالث والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۳۹۔
5…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن العباس، الحدیث:۲۱۸۱، ج۱، ص۵۲۴۔