جاہل شخص یہ خیال کرتا ہے کہ یہ تو لوگوں کے لئے زیب وزینت اختیا رکرنا ہے وہ اسے دوسروں کی عادات پر قیاس کرتا ہے اور فِرِشتہ صفت لوگوں کو لوہاروں جیسے کم درَجہ لوگوں سے تشبیہ دیتا ہے۔افسوس ہے ایسے شخص پر۔ حالانکہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تبلیغِ اسلام کا حکم تھا اور آپ کی ذمہ داری تھی کہ ان کے دلوں میں اپنی عظمت کو اجاگر کریں تاکہ ان کے دلوں میں آپ کامرتبہ کم نہ ہو اور ان کی نظروں میں اپنی صورت کو عمدہ کریں تاکہ وہ آپ کو حقیر سمجھ کر آپ سے نفرت نہ کریں ۔منافقین اسی طرح (کی باتوں اور افعال کے ذریعے ) لوگوں کے دلوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لوگوں کو دعوت دینے والے عالم پر بھی یہی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے اور وہ ظاہری طور پر ان چیزوں کا خیال رکھے جو لوگوں کے اس سے متنفر ہونے کا سبب نہ بنیں ۔ اس قسم کے امور میں اعتماد کا دار ومدار نیت پر ہوتا ہے اور یہ اعمال ہی ہیں جو (حسن نیت کے سبب) مقصود کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں ۔ اس ارادے سے زیب وزینت اختیار کرنا پسندیدہ ہے اور خود کو زاہد (یعنی دنیا سے کنارہ کش) ظاہر کرنے کے لئے داڑھی کو پراگندہ چھوڑ دینا ممنوع ہے جبکہ نیت یہ ہو کہ لوگ سمجھیں یہ زاہد ہے اور نفس کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ البتہ اس سے اہم کام میں مشغولیت کے سبب اسے چھوڑنا اچھا ہے۔یہ بندے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے درمیان پوشیدہ احوال ہیں اور نگرانی کرنے والا اچھی طرح دیکھتا ہے۔ لہٰذا منافقت کسی حال میں فائدہ مند نہیں ۔
بری نیت سے زیب و زینت اختیار کرنا:
کتنے ہی جاہل لوگ ایسے ہیں جو مخلوق کی خاطر ان چیزوں کو اختیا ر کرتے ہیں ایسا شخص خود بھی غلط فہمی کاشکار ہے اور دوسروں کو بھی غلط فہمی میں ڈالتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ اس کا مقصد اچھا ہے۔ پس تم علما کے ایک گروہ کو دیکھو گے کہ وہ قیمتی لباس زیب ِتن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد بدعتیوں اور جھگڑالو لوگوں کا مقابلہ کرنااور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ یہ بات اس دن واضح ہو جائے گی جس دن دلوں کا امتحان ہوگااور قبروں سے مردوں کو اٹھایا جائے گا اور جو کچھ سینوں میں ہے ظاہر ہو جائے گا اس دن خالص چاندی اور کھوٹ والی چاندی میں تمیز ہو جائے گی۔ ہم اس بڑی پیشی کے دن کی رسوائی سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں ۔
(۶)…انگلیوں کے بیرونی حصے کے جوڑوں پر جمع ہونے والی میل: اہلِ عرب عام طور پر اسے دھوتے نہ تھے کیونکہ وہ