باب نمبر3: ظاہری نجاستوں سے پاکی حاصل کرنا
ظاہری نجاستوں سے پاکی حاصل کرنے کی دو قسمیں ہیں : (۱)میل کچیل دور کرنا اور (۲)اجزائے جسم کو صاف کرنا۔
پہلی قسم: میل کچیل اور رطوبات کی آٹھ قسمیں ہیں :
(۱)…سر کے بالوں میں جو مَیل اور جوئیں جمع ہوتی ہیں ان سے پاکیزگی حاصل کرنا: دھونے، کنگھی کرنے اور تیل لگانے کے ذریعے مستحب ہے تاکہ بال اُلجھتے نہ رہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کبھی کبھی سرِانور میں تیل ڈالنا اور کنگھی کرنا بھی مروی ہے۔ (۱) نیزاس کا حکم بھی فرماتے اور ارشا دفرماتے: ’’کبھی کبھی تیل لگایا کرو۔‘‘ (۲)
ایک روایت میں ہے کہ ’’جس کے بال ہوں وہ ان کی عزّت کرے۔‘‘ (۳) یعنی انہیں میل کچیل سے بچائے۔
بارگاہِ رسالت میں ایک شخص حاضر ہوا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا اس کے پاس تیل نہیں جس کے ذریعے بالوں کو بٹھا لیتا۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اس حالت میں آتا ہے گویا وہ شیطان (کی طرح بال بکھیرے ہوئے) ہے۔‘‘(۴)
(۲)…کانوں کی سلوٹوں میں جمع ہونے والی میل کچیل: اس میں سے جو ظاہر ہو وہ مسح سے زائل ہو جاتی ہے اور جو کان کے سوراخ کی گہرائی میں جمع ہوجاتی ہے غسل خانہ سے نکلتے وقت اسے نرمی سے صاف کیا جائے کیونکہ بسا اوقات اس کی کثرت سماعت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
(۳)…ناک میں جمع ہونے والی رطوبتیں جواطراف سے ملی ہوتی ہیں : انہیں ناک میں پانی چڑھا کر(الٹے ہاتھ کی) چھنگلیاسے صاف کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الشمائل المحمدیۃ للترمذی، باب ماجاء فی ترجل رسول اللّٰہ، الحدیث:۳۳۔۳۵، ص۴۰۔۴۲۔
2…سنن الترمذی، کتاب اللباس، باب ماجاء فی النھی عن الترجل الّا غِبًّا، الحدیث:۱۷۶۲، ج۳، ص۲۹۳۔
3…سنن ابی داود، کتاب الترجل، باب ماجاء فی استحباب الطیب، الحدیث:۴۱۶۳، ج۴، ص۱۰۳۔
4…سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب فی غسل الثوب وفی الخلقان، الحدیث:۴۰۶۳، ج۴، ص۷۲۔
قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۴۳۔