Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
430 - 1087
 دائیں بازو کے باطن پر پھیرے اور کلائی تک لے آئے پھر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے اندر والے حصے کو دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ظاہر پر پھیرے پھر بائیں بازو کے ساتھ بھی اسی طرح کرے پھر ہتھیلیوں کا مسح کرکے انگلیوں کے درمیان خلال کرے۔
	اس تکلیف کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی ضرب میں کہنیوں تک گھیرنا پایا جائے اگر ایک ہی ضرب سے ایسا مشکل ہو تو دو یا اس سے زیادہ ضربوں میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ جب اس کے ساتھ فرض پڑھے تو اسے اختیار ہے جیسے چاہے نفل پڑھے اور اگر دو فرضوں کو جمع کرنا چاہے تو دوسری فرض نماز کے لئے دوبارہ تیمم کرے۔ اسی طرح ہرفرض نماز کے لئے علیحدہ علیحدہ تیمم کرے(۱)۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

{… تعریف اور سعادت…}
	 حضرت سیِّدُناامام عبداللّٰہ بن عمربیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی(متوفی۶۸۵ھ)ارشادفرماتے ہیں کہ ’’جوشخص اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری کرتاہے دُنیامیں اس کی تعریفیں ہوتی ہیں اورآخرت میں سعادت مندی سے سرفراز ہوگا ۔‘‘ (تفسیرالبیضاوی، پ۲۲، الاحزاب ، تحت الایۃ: ۷۱،ج۴، ص ۳۸۸)  




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احناف کے نزدیک ایک تیمم سے جس قدر چاہیں فرائض و نوافل ادا کئے جاسکتے ہیں کیونکہ تیمم وضوکے قائم مقام ہے۔ ہرفرض کے لئے علیحدہ تیمم کرنا ضروری نہیں ۔ (ماخوذازالہدایۃ،کتاب الطہارۃ،ج۱،ص۲۹)