علما کی عام لوگوں پر فضیلت: حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمانے فرمایا: ’’علمائے کرام عام مومنین سے700درَجے بلند ہوں گے، ہر دو درَجوں کے درمیان 500سال کی مسافت ہے۔‘‘ (۱)
{۳}
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ (پ۲۳، الزمر:۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔
{۴}
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (پ۲۲، فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔
{۵}
قُلْ کَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمْ ۙ وَمَنْ عِنۡدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾ (پ۱۳، الرعد:۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللّٰہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں اور وہ جسے کتاب کا علم ہے۔
{۶}
قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ (پ۱۹،النمل:۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا۔
اس میں تنبیہ ہے کہ علم کی طاقت سے وہ اس پر قادر ہوا (یعنی حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت سیِّدُنا آصف بن برخیارَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ علم کی طاقت سے پلک جھپکنے میں تخت لانے پرقادر ہوئے)۔
{۷}
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ (پ۲۰، القصص:۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللّٰہ کا ثواب بہتر ہے اس کیلئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے۔
اس آیت ِ مبارَکہ میں بیان فرمایا کہ آخرت کی قدر و منزلت علم کے ذریعے معلوم ہوتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب،الفصل الحادی والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ، بیان آخرفی فضل العلم…الخ، ج۱، ص۲۴۱۔