درست یہ ہے کہ سنت نہیں بلکہ مستحب ہے ۔کافر جب غیر جنبی حالت میں اسلام لائے اور مجنون جب افاقہ پائے اور میّت کو غسل دینے والے کے لئے بھی غسل کرنا مستحب ہے۔
تَیَمُّم کا بیان
تیمم کے جواز کی صورتیں :
جس کے لئے پانی کا استعمال مشکل ہو تلاش کے باوجود نہ ملنے کے سبب یا کوئی درندہ وغیرہ اس تک پہنچنے سے رکاوٹ ہو یا پیاسا ہونے کی وجہ سے اسے خود موجود پانی کی ضرورت ہو یا اس کا رفیق پیاسا ہو یا پانی کسی اور کی ملکیت میں ہواور وہ رائج قیمت سے زیادہ میں بیچتا ہو یا اعضائے وضوپر کہیں زخم ہو یا بیمار ہو یا پانی کے استعمال سے کسی عضو کے خراب ہونے یا بہت زیادہ کمزوری کا ڈر ہو تو فرض نماز کا وقت داخل ہونے تک صبر کرے ۔
تیمم کا طریقہ:
پھر وہ ایسی پاک مٹی کا قصد کرے جو نرم ہو جس سے غباراڑتاہو۔ اب اپنی انگلیوں کو ملا کر اس پر دونوں ہاتھوں کو مارے اور ایک بار پورے چہرے کا مسح کرے اور اس وقت جوازِ نماز کی نیت کرے۔ بالوں کے نیچے غبار پہنچانے کی مشقت نہ کرے خواہ بال گھنے ہوں یا ہلکے۔ غبار سے پورے چہرے کو گھیرنے کی کوشش کرے اوریہ چیز ایک بار مارنے سے حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ چہرے کی چوڑائی ہتھیلیوں کی چوڑائی سے زیادہ نہیں اور گھیرنے میں غالب گمان کافی ہے۔ پھر انگوٹھی اُتارے اور اپنی انگلیوں کو کشادہ کرکے دوسری ضرب مارے اس کے بعد دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے ظاہر کو بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے باطن سے اس طرح ملائے کہ انگلیوں کے پورے دوسری طرف کی شہادت کی انگلی سے باہر نہ ہوں پھر بائیں ہاتھ کو جس طرح رکھا تھا اسی طرح دائیں بازو کے ظاہر پر پھیرے پھر بائیں ہتھیلی الٹ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
….کی مطبوعہ499صفحات پر مشتمل کتاب نماز کے احکام صفحہ 107پر شیخ طریقت ، امیراہلسنّت ،بانی ٔدعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاّرؔ قادری رضوی دَ امَتْ بَرَکَاتُـہُمُ الْعَالِیَّہ نقل فرماتے ہیں :…منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوکر عضو سے نکلنا۔(فتاویٰ عالمگیری،ج۱،ص۴)…احتلام یعنی سوتے میں منی نکل جانا۔(خلاصۃ الفتاویٰ،ج۱،ص۱۳)…شرمگاہ میں حشفہ (سپاری) داخل ہو جاناخواہ شہوت ہو یا نہ ہو، انزال ہو یا نہ ہودونوں پر غسل فرض ہے۔(مراقی الفلاح معہ حاشیۃ الطحطاوی ، ص۹۷) …حیض سے فارغ ہونا۔(ایضاً ) …نفاس(یعنی بچہ جننے پر جو خون آتاہے اس) سے فارغ ہونا۔(تبیین الحقائق،ج۱،ص۱۷)