عمل کرنا راہِ آخرت پر چلنے والے کے لئے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مختلف احوال پیش آنے سے جن مسائل کی ضرورت پڑتی ہے ان کے لئے کتبِ فقہ کی طرف رجوع کریں ۔
غسل کے فرائض:
غسل میں دو فرض ہیں :(۱) …نیت (۲)…پورے بدن پر پانی بہانا۔ (۱)
وضوکے فرائض :
وضو کے فرائض یہ ہے: (۱)…نیت (۲)…چہرے کا دھونا (۳)…دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا (۴)…اتنے حصے پر مسح کرنا جس پر سر کا اطلاق ہوسکے (۵)…دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھونا (۶)ترتیب قائم رکھنا۔ اعضاء کو پے درپے دھونا واجب نہیں (۲)۔
غسل فرض ہونے کے اسباب:
غسل فرض ہونے کے چار اسباب ہیں : (۱)…مَنِی کا(شہوت کے ساتھ)نکلنا(۲)…(مردوعورت کی) شرمگاہوں کا بغیر کسی رکاوٹ کے ملنا (۳)…حیض اور (۴)…نفاس کا ختم ہونا(۳)۔
ان مواقع پر غسل کرنا سنت ہے:
عیدین (یعنی عید الفطر اور عید الاضحی)، جمعہ، احرام، عرفہ ومزدلفہ میں ٹھہرنے اور مکہ مکرّمہ میں داخل ہونے کے لئے غسل کرنا۔
جن مواقع پر غسل کرنا مستحب ہے:
تین غسل سنت ہیں :ایامِ تشریق کے ہردن ۔ایک قول کے مطابق طوافِ وداع کے لئے غسل کرنا سنت مگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احناف کے نزدیک غسل میں تین فرض ہیں :(۱)...کلی کرنا(۲)...ناک میں پانی ڈالنا(۳)...تمام ظاہربدن پر پانی بہانا۔
(ماخوذاز بہارشریعت،ج۱، ص۳۱۶،۳۱۷)
2…احناف کے نزدیک وضو میں چار فرض ہیں :(۱)...مونھ دھونا(۲)...کہنیوں سمیت ہاتھ دھونا(۳)...چوتھائی سر کا مسح (۴)...پاؤں کو گٹوں ( ٹخنوں ) سمیت ایک دفعہ دھونا۔ (ماخوذاز بہارشریعت،ج۱، ص۲۸۸ تا۲۹۱)
3…احناف کے نزدیک غسل فرض ہونے کے درج ذیل اسباب ہیں ۔چنانچہ، دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ… …