{9}…اَنَّ الطَّاہِرَ کَالصَّائِم یعنی وضو کرنے والا روزے دار جیسا ہے۔(۱)
{10}…جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں اور کلمۂ شہادت: اَ شْہَدُ اَ نْ لَا اِ لٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَ ہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَ اَ شْہَدُ اَ نَّ مُحَمَّدً ا عَبْدُ ہٗ وَرَسُوْلُــــہٗپڑھا اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہو۔ (۲)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’اچھا وضو تجھ سے شیطان کو بھگا دے گا۔‘‘
حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں : ’’جو شخص استطاعت رکھتا ہے کہ باوضو، ذکر اور استغفار کے ساتھ رات گزارے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے کیونکہ جس عمل پرروحیں قبض کی جاتی ہیں اسی پر اُٹھائی جائیں گی۔‘‘ (۳)
غسل کا طریقہ
(غسل کرنے والا)پانی کے برتن کو سیدھی جانب رکھے پھربسماللّٰہ شریف کہہ کر تین بار ہاتھ دھوئے پھر استنجا کرے جس کا طریقہ بیان ہو چکا ہے۔ اگر جسم پر نجاست لگی ہو تو اسے زائل کرے پھر نمازکا سا وضو کرے مگر پاؤں آخر میں دھوئے اگر پاؤں پہلے دھوکر زمین پر رکھے تو یہ پانی کا ضیاع ہو گا۔ پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے پھر تین مرتبہ دائیں کندھے پر اور تین مرتبہ بائیں کندھے پر پانی بہائے پھر جسم کو آگے پیچھے سے ملے اور سراور داڑھی کے بالوں کا خلال کرے اور گھنے یا ہلکے بالوں کے اُگنے کی جگہ تک پانی پہنچائے۔ عورت پر مینڈیوں (لٹوں ) کو کھولنا لازم نہیں ۔لیکن جب معلوم ہو کہ بالوں کے درمیان پانی نہیں پہنچے گا تو کھولنا ضروری ہے اور بدن کی سلوٹوں کا خاص خیال رکھے۔ دورانِ غسل عضو ِمخصوص کو ہاتھ لگانے سے بچے اگر ایسا کرے تو دوبارہ وضو کرے(۴)۔ اگر غسل سے پہلے وضو کرلیا تو اب دوبارہ وضو کرنے کی حاجت نہیں ۔وضو اور غسل کی سنتوں میں سے وہ باتیں ہم نے ذکر کر دی ہیں جن کا جاننا اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…یہ حدیث پاک مسند الفردوس میں اس طرح ہے ’’اَلطَّاہِرُ النَّائِم کَالصَّاِٗمِ الْقَائِم یعنی: وضو کرکے سونے والا روزہ رکھ کر رات بھر قیام کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘ (فردوس الاخبارللدیلمی، باب الطاء، الحدیث:۳۷۹۴، ج۲، ص۵۲)
2…سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ، باب مایقال بعد الوضو ء، ج۱، ص۲۷۳۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الطہارات، من کان یقول نم…الخ، الحدیث:۳، ج۱، ص۱۴۲۔
4…احناف کے نزدیک سترغلیظ (عضو مخصوص) کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہاں دوبارہ کر لینا مستحب ہے۔ (ماخوذاز بہارشریعت،ج۱، ص۳۰۲)