اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے لئے پیتل کے برتن میں پانی لایا گیا تو انہوں نے اس سے وضو کرنے سے انکار کردیا اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اس کی کراہت نقل کی۔
جب وضو سے فارغ ہو اور نماز کی طرف متوجہ ہو تو دل میں یہ خیال ہونا چاہئے کہ میں نے اپنے ظاہر کو تو پاک کرلیا جس پر مخلوق کی نظر پڑتی ہے ۔لہٰذا اب دل کو پاک کئے بغیر بارگاہِ الٰہی میں مناجات کرنے سے حیا کرنا چاہئے کہ اسے تواللّٰہعَزَّوَجَلَّملاحظہ فرما تا ہے اوریہ بات یقینی ہے کہ دل کی پاکیزگی توبہ سے حاصل ہوتی ہے۔نیز دل کا برے اخلاق سے کنارہ کش اوراچھے اخلاق سے مزین ہونا ضروری ہے ۔ جو صرف ظاہری طہارت پر اکتفا کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے بادشاہ کو گھر میں آنے کی دعوت دینے کا ارادہ کیا اوراندرونی حصے کو گندگیوں سے آلودہ چھوڑ کر بیرونی حصے پر چونا کرنے میں مشغول ہو گیا تو ایسا شخص بادشاہ کے غیض وغضب کا کس قدر حق دار ہے۔اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی بہتر جانتا ہے۔
وضوکے فضائل پرمشتمل 10فرامین مصطفٰے
{1}…جس نے اچھی طرح وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور ان میں کوئی دنیاوی بات دل میں نہ لایا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا کہ جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
{2}…ایک روایت میں ہے کہ ان دو رکعتوں میں وہ نہ بھولا تواس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(۱)
{3}…’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللّٰہعَزَّوَجَلَّخطاؤں کو مٹاتا اور درجات کو بلندفرماتا ہے: (سنو!وہ )دشواری کے وقت کامل وضو کرنا، مساجد کی طرف چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیں :دھوپ کا گرم پانی مطلقاًمگر گرم ملک گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں گرم ہوجائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہولے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے نہ غسل سے نہ پینے سے یہاں تک کہ جو کپڑا اس سے بھیگا ہو جب تک سرد (ٹھنڈا) نہ ہوجائے پہننا مناسب نہیں کہ اس پانی کے بدن کو پہنچنے سے معاذاللّٰہ احتمال برص ہے۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۹۱۵، ج۱۷، ص۳۳۱، باختصارٍ۔
المعجم الاوسط، من اسمہ القاسم، الحدیث:۴۹۷۲، ج۳، ص۴۱۰، باختصارٍ۔
سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب کراھیۃ الوسوسۃ…الخ، الحدیث:۹۰۵، ج۱، ص۳۴۲، باختصارٍ۔