عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! تیرے لئے پاکی ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے برائی کی اور اپنی جان پر ظلم کیا۔اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! میں مغفرت چاہتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما۔ تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے توبہ کرنے والوں ، پاک لوگوں میں کردے ، مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما، مجھے صابر وشاکر بندہ بنا ، مجھے ایسا بنا دے کہ کثرت سے تیرا ذکر کروں اور صبح شام تیری پاکی بیان کرتا رہوں ۔‘‘ (۱)
منقول ہے کہ جس نے وضو کے بعد یہ کلمات کہے اس کے وضو پر مہر لگا دی جائے گی اور اسے عرش کے نیچے بلند کر دیا جائے گا ۔وہ ہمیشہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی تسبیح وتقدیس بیان کرتا رہے گااور اس کا ثواب قیامت تک وضو کرنے والے کے لئے لکھا جاتا رہے گا۔
وضو کے مکروہات:
وضو میں درج ذیل چیزیں مکروہ ہیں : (۱)…کسی عضو کو تین سے زیادہ مرتبہ دھونا جس نے زیادہ کیا اس نے ظلم کیا۔ (۲)…پانی (کے استعمال)میں اسراف کرنا ۔ چنانچہ، حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (اعضائے وضو کو) تین بار دھویا اور ارشاد فرمایا: ’’جس نے زیادہ کیا اس نے ظلم کیا اور برا کیا۔‘‘ (۲)
ایک روایت میں ہے کہ ’’اس امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو دُعا اور طہارت میں حد سے بڑھیں گے۔‘‘ (۳)
منقول ہے کہ وضو میں پانی زیادہ استعمال کرنا آدمی کے علم میں کمی کی علامت ہے۔ (۴)
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : ’’منقول ہے کہ وسوسوں کی ابتدا وضو سے ہوتی ہے۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب،الفصل الثالث والثلاثون فی ذکر دعائم الاسلام…الخ،ج۲،ص۱۵۲۔
2…سنن ابی داود،کتاب الطہارۃ، باب الوضوء ثلاثا ثلاثا، الحدیث:۱۳۵، ج۱، ص۷۸۔۷۹۔
3…سنن ابی داود،کتاب الطہارۃ، باب الاسراف فی الماء، الحدیث:۹۶، ج۱، ص۶۸۔
4…الطھورللقاسم بن سلام، باب مایستحب من الاقتصاد…الخ، الحدیث:۱۰۹، ص۱۲۴۔
5…الجامع لاحکام القرآن، پ:۳۰،سورۃ الناس:۵، ج۱۰، الجزء:۲۰، ص۱۹۳۔