عِلْم کا بیان
یہ سات ابواب پر مشتمل ہے: (۱)علم،تعلیم اور تعلُّم کی فضیلت (۲)فرضِ عین اور فرضِ کفایہ علوم، علمِ فقہ اور علمِ کلام کے علمِ دین ہونے کی حد اور علمِ آخرت وعلمِ دنیاکا بیان (۳)ان مذموم(قبیح) علوم کا بیان جنہیں عوام علم دین سمجھتے ہیں نیزاس بات کابیان کہ کون ساعلم کتنامذموم ہے (۴)آفاتِ مناظرہ اور لوگوں کے اختلافات اور جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجوہات کا بیان (۵)استاذ وشاگردکے آداب(۶)علم اورعلماکی آفات اور علمائے دنیاوعلمائے آخرت کے درمیان فرق کرنے والی علامات کا بیان اور (۷)عقل، اس کی فضیلت، اس کی اقسام اور اس کے بارے میں وارِد رِوایات کا بیان۔
باب نمبر1: عِلْم، تعلیم اور تعلّم کی فضیلت اور اس کے عقلی ونقلی دلائل کا بیان
پہلی فصل: عِلْم کی فضیلت
علم کی فضیلت پر مشتمل 14فرامین بارِی تعالیٰ:
{۱}
شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۙ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢابِالْقِسْطِؕ(پ۳، اٰل عمران:۱۸(
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر۔
دیکھئے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کس طرح اپنی پاک ذات سے آغاز فرمایا پھر ملائکہ اور پھر علم والوں کا ذکر فرمایا۔ شرف وفضیلت اور عظمت وکمال کے لئے یہی کافی ہے۔
{۲}
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ (پ۲۸،المجادلۃ:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیادرجے بلند فرمائے گا۔