ناک صاف کرتے وقت کی دُعا:
ناک صاف کرتے ہوئے یہ دُعا پڑھے:’’اَ للّٰہُمَّ اِ نِّی اَ عُوْذُبِکَ مِنْ رَوَائِحِ النَّارِ وَمِنْ سُوْءِ الدَّاریعنی اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! میں جہنم کی بدبوؤں اور برے گھرسے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ (۱)
پھر چہرے کے لئے ایک چلو پانی لے اور لمبائی میں پیشانی کی ابتدا سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک دھوئے اور پیشانی کے دونوں کناروں پر بال جھڑنے کی جگہ چہرے میں داخل نہیں بلکہ وہ سر کا حصہ ہیں ۔ اس جگہ تک بھی پانی پہنچائے جہاں سے عورتیں بال ہٹاتی رہتی ہیں اور یہ وہ مقدار ہے کہ اگر کسی دھاگے کا ایک سرا کان کے اوپر رکھیں اور دوسرا پیشانی کے کنارے پر تو یہ حصہ چہرے کی طرف رہے گا(اس سے مراد کنپٹی ہے)۔ ان جگہوں پر بھی پانی پہنچائے:ابرو، مونچھیں ، رخساروں کے بال اورپلکیں کیونکہ عام طور پر یہ کم ہوتے ہیں ۔ داڑھی گھنی نہ ہوتو بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا واجب ہے لیکن گھنی داڑھی میں یہ حکم نہیں ۔ نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال ہلکے اور گھنے ہونے میں داڑھی کے حکم میں ہیں ۔پھر تین مرتبہ اسی طرح چہرے پر پانی بہائے اور داڑھی کے لٹکے ہوئے بالوں کے ظاہری حصے پر پانی بہائے(۲) اور آنکھوں کے خانوں اورمیل اور سرمہ جمع ہونے کی جگہوں میں انگلیاں داخل کرکے اچھی طرح صاف کرے۔ مروی ہے کہ ’’حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسی طرح کیا۔‘‘ (۳) آنکھیں دھوتے وقت یہ امید رکھے کہ آنکھوں کے گناہ دھل رہے ہیں اور ہر عضو دھوتے وقت یہی امید رکھے کہ اس عضو کے گناہ دھل رہے ہیں ۔
چہرہ دھوتے وقت کی دُعا:
چہرہ دھوتے وقت یہ دُعا پڑھے: ’’اَ للّٰہُمَّ بَــیِّضْ وَجْہِیْ بِنُوْرِکَ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہُ اَ وْلِیَائِکَ وَلَا تَسْوَدُّ وَجْہِیْ بِظُلُمَاتِکَ یَوْمَ تَسْوَ دُّ وُجُوْہُ اَعْدَ ائِکَیعنی اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! جس دن تیرے اولیاکے چہرے روشن ہوں گے اس دن اپنے نور سے میرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکر دعائم الاسلام…الخ، ج۲، ص۱۵۲۔
2…بہار شریعت جلد اول صفحہ 289پر ہے :داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے اور اگر گھنے ہوں تو گلے کی طرف دبانے سے جس قدر چہرے کے گردے میں آئیں ان کا دھونا فرض ہے اور جڑوں کا دھونا فرض نہیں اور جو حلقے سے نیچے ہوں ان کا دھونا ضرور نہیں اور اگر کچھ حصہ میں گھنے ہوں اور کچھ چَھدرے، تو جہاں گھنے ہوں وہاں بال اور جہاں چھدرے ہیں اس جگہ جلد کا دھونا فرض ہے۔
3…المسندللامام احمدبن حنبل،مسند الانصار،حدیث ابی امامۃ الباھلی،الحدیث:۲۲۲۸۶،ج۸،ص۲۸۸۔