وضو کا طریقہ
استنجا سے فراغت کے بعد وضو میں مشغول ہوجائے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تو وضو فرماتے اور مسواک سے ابتدا کرتے۔
مسواک کے متعلِّق سات فرامینِ مصطفٰے
{1}…بلاشبہ تمہارے منہ قراٰنِ پاک کے راستے ہیں پس انہیں مسواک سے صاف کرو۔ (۱)
نیت :مسواک کرتے ہوئے یہ نیت کرنی چاہئے کہ میں نماز میں قراء َتِ قراٰن اور ذکرُاللّٰہ کے لئے منہ صاف کرتا ہوں ۔
{2}…مسواک(والے وضو) کے بعد نماز بغیر مسواک والی نمازسے پچھتر درجے افضل ہے۔ (۲)
{3}…اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا خوف نہ ہوتا توانہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔(۳)
{4}…کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں تم میرے پاس پیلے دانتوں کے ساتھ آجاتے ہو مسواک کیا کرو۔ (۴)
{5}…حضور انور، شافع روزِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کو باربار مسواک کرتے تھے۔ (۵)
{6}…حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیشہ ہمیں مسواک کا حکم دیتے رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ عنقریب آپ پر اس بارے میں کچھ(حکم ) نازل ہوگا۔ (۶)
{7}…تم پر مسواک لازم ہے بے شک یہ منہ کی پاکیزگی اور ربّ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کا ذریعہ ہے۔(۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…حلیۃ الاولیاء، سعید بن جبیر، الحدیث:۵۷۳۶، ج۴، ص۳۲۶۔
سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ، باب السواک، الحدیث:۶۹۱، ج۱، ص۱۸۷، قول علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل،مسندالسیدۃ عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا،الحدیث:۲۶۴۰۰،ج۱۰،ص۱۴۱۔
3…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب السواک، الحدیث:۲۵۲، ص۱۵۲۔
4…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث تمام بن العباس، الحدیث:۱۸۳۵، ج۱، ص۴۵۹۔
5…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب السواک، الحدیث:۲۵۶، ص۱۵۲۔
6…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللّٰہ بن عباس، الحدیث:۳۱۵۲، ج۱، ص۷۲۷۔
7…سنن النسائی، کتاب الطہارۃ، باب الترغیب فی السواک، الحدیث:۵، ص۱۰۔