Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
415 - 1087
 تین جگہوں کے ساتھ صاف کرے یہاں تک کہ پونچھنے والی جگہ پر تری نظر نہ آئے۔ دو مرتبہ میں صفائی حاصل ہوجائے تب بھی تین بار کرے اگر ایک پتھر پر اکتفا کرے تو(پتھر کی علیحدہ علیحدہ) تین جگہوں سے صاف کرنا واجب ہے اگر چار پتھروں سے صفائی حاصل ہوجائے تو طاق پر عمل کے لئے پانچویں پتھر کا استعمال مستحب ہے۔ پھر اس جگہ سے دوسری جگہ چلا جائے اور پانی سے صفائی حاصل کرے ، یوں کہ دائیں (سیدھے) ہاتھ سے جائے نجاست (یعنی مقعد) پر پانی بہائے اور بائیں ہاتھ سے صاف کرے یہاں تک کہ ایسا اثر باقی نہ رہے کہ ہتھیلی لگانے سے اس کا احساس ہواوراس معاملے میں زیادہ مبالغہ نہ کرے کہ یہ وسوسوں کی جگہ ہے۔
	جان لیجئے کہ باطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں تک پانی نہیں پہنچتا اور باطنی فضلات جب تک ظاہر نہ ہوں ان پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جاتا،جو نجاست ظاہر ہے اور اس کے لئے نجاست کا حکم ثابت ہے تو اس کے ظہور کی حد یہ ہے کہ پانی اس تک پہنچ کر اسے ختم کردے وسوسوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔
استنجا سے فراغت کے بعد کی دُعا:
	استنجا سے فارغ ہو کر یہ دُعا کرے: ’’اَ للّٰھُمَّ طَہِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَحَصِّنْ فَرْجِیْ مِنَ الْفَوَاحِشیعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میرے دل کو نفاق سے پاک کردے اور میری شرمگاہ کو بے حیائی کے کاموں سے بچا۔‘‘
اہل قبا کی فضیلت:
	(استنجا سے فراغت کے بعد)اگر ہاتھ میں بو باقی ہو توہاتھ کو دیوار یا زمین سے رگڑے (تاکہ بو ختم ہوجائے)۔ پتھروں اور پانی دونوں سے استنجا کرنا مستحب ہے۔ چنانچہ، مروی ہے کہ جب یہ آیت ِ مقدسہ نازل ہوئی:
فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ﴿۱۰۸﴾(پ۱۱،التوبۃ:۱۰۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللّٰہ کو پیارے ہیں ۔
 	توحضورنبی ٔاکرم ،نورمجسمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہلِ قبا سے ارشاد فرمایا: ’’یہ کون سی طہارت ہے جس پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے تمہاری تعریف فرمائی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ہم پتھروں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں ۔‘‘  (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تلخیص الحبیرفی تخریج احادیث الرافعی الکبیر،کتاب الطہارۃ،باب الاستنجاء،ج۱،ص۳۲۲۔۳۲۳۔